میوزیم پر حملہ کرنے والے تربیت یافتہ تھے: تیونس

تیونس ۔ 20 ۔ مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) جن دو بندوق برداروں نے فائرنگ کے ذریعہ جن 21 سیاحوں کو ایک میوزیم میں نشانہ بنائے ہوئے ہلاک کیا تھا ، ان کے بارے میں اب یہ کہا جارہا ہے کہ انہوں نے لیبیا میں تربیت حاصل کی تھی ۔ سکریٹری آف اسٹیٹ برائے سیکوریٹی رفیق شبیلی نے خانگی الہیوار ٹیلی ویژن کو یہ بات بتائی جن کے نام یسین عابدی اور حلیم کیجنوئی بنائے گئے ہیں ۔ دریں اثناء شبیلی نے بتایا کہ لیبیا جانے سے قبل عابدی کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ انہوں نے اس کے علاوہ کوئی اور تفصیل نہیں بتائی ۔ چہارشنبہ کو قومی بارڈو میوزیم پر کئے گئے حملے کو 2011 ء سے اب تک کا بدترین حملہ تصور کیا جارہا ہے جو دراصل اس بغاوت کے بعد پیدا ہونے والے حالات تھے جس میں مضبوط سمجھے جانے والے قائد زین العابدین بن علی کو دھول چٹادی تھی ۔ سیکوریٹی سربراہ کے مطابق دونوں بندوق برداروں کا تعلق اسے سلیبر سیلز سے ہے جو مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کئی مشتبہ تربیتی مراکز کی نشاندہی کی جس میں دوسرا مشہور شہر بن غازی بھی شامل ہے ۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ کم و بیش 3000 تیونیتیائی شہری عراق ، شام اور لیبیا گئے ہیں جہاں وہ جہادیوں کی صف میں شامل ہو کر لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں ۔