کشن باغ فساد متاثرین سے ملاقات اور جائزہ کے بعد اقلیتی کمیشن رپورٹ حکومت کو پیش
حیدرآباد ۔ 8 جولائی (سیاست نیوز) عرش محل کشن باغ میں دو فرقوں کے مابین ہوئے فساد کے روک تھام اور اس طرح کے حالات کا دوبارہ اعادہ نہ ہو اس کیلئے میر محمود صاحب پہاڑی اور سکھ چھاؤنی کیلئے علحدہ پولیس اسٹیشنس کا قیام عمل میں لانے کی سفارش کی گئی ہے۔ آندھراپردیش ریاستی اقلیتی کمیشن نے عرش محل پولیس فائرنگ واقعہ پر جاری تحقیقات کے دوران آج ایک پریس کانفرنس سے صدرنشین کمیشن جناب عابد رسول خان نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن نے حکومت کو سفارشات روانہ کردیئے ہیں جس میں یہ سفارش بھی شامل ہے کہ اس علاقہ میں دوبارہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں اور امن و امان کی برقراری رہے اس کے لئے دونوں علاقوں میں علحدہ پولیس اسٹیشن قائم کئے جائیں چونکہ فی الحال دونوں علاقے راجندر نگر پولیس اسٹیشن حدود میں آتے ہیں۔ جناب عابد رسول خان نے بتایا کہ 14 مئی کو کشن باغ عرش محل میں پیش آئے واقعہ کی تحقیقات کے دوران کمیشن کے ارکان نے علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے متاثرین سے ملاقات کی۔ جن ارکان نے علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے متاثرین بالخصوص زخمیوں سے دواخانوں میں ملاقات کی ان میں ڈاکٹر قرۃ العین حسن، مسٹر گوتم جین کے علاوہ مسٹر پرسی اٹالیا اور آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی اوما مہیشور راؤ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن نے گورنر آندھراپردیش کو بھی ایک یادداشت حوالے کرتے ہوئے اضافی پولیس فورس کی تعیناتی کی خواہش کی گئی تھی۔ جناب عابد رسول خان صدرنشین آندھراپردیش ریاستی اقلیتی کمیشن نے آج پریس کانفرنس کے دوران گورنر آندھراپردیش کی جانب سے تینوں مہلوکین کیلئے 6 لاکھ روپئے فی کس ایکس گریشیاء کی اجرائی پر اظہارتشکر کرتے ہوئے کہا کہ گورنر آندھراپردیش نے شدید زخمیوں کیلئے 50 ہزار اور معمولی زخمیوں کیلئے 10 ہزار روپئے امداد جاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن کمیشن نے حکومت کو روانہ کردہ اپنی سفارش میں ترمیم کی خواہش کی ہے اور حکومت سے خواہش کی گئی ہیکہ وہ زخمیوں کیلئے 2 لاکھ روپئے اور معمولی زخمیوں کیلئے کم از کم 50 ہزار روپئے کی امداد جاری کرے۔ کمیشن نے مہلوکین کے افراد خاندان میں کسی ایک شخص کو سرکاری ملازمت فراہم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح عوام میں اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔ آندھراپردیش ریاستی اقلیتی کمیشن حکومت سے مزید خواہش کی ہیکہ مہلوکین کے لواحقین کو قریبی علاقوں امکنہ یا پٹہ جات فراہم کئے جائیں۔ 10 سفارشات پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ میں اس بات کی بھی خواہش کی گئی ہیکہ عرش محل کے جس علاقہ میں یہ حالات رونما ہورہے ہیں وہاں جائیداد کے تنازعات کے متعلق بھی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اسی لئے محکمہ مال اور وقف بورڈ کو مشترکہ سروے کرتے ہوئے اپنی جائیدادوں کی نشاندہی کرنی چاہئے۔ جناب عابد رسول خان نے بتایا کہ مذکورہ اراضی سے متعلق وقف ہونے کے امکانات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے اسی لئے فوری طور پر سروے کے ذریعہ حقائق سے آگہی حاصل کی جانی چاہئے تاکہ لینڈ گرابرس کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جاسکے۔ کمیشن نے اس طرح کے واقعات میں مقدمات کے طویل ہونے کے سبب خاطیوں کے بچنے کے امکانات کو ختم کرنے کیلئے حکومت سے خواہش کی ہیکہ اس واقعہ میں فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرتے ہوئے مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ متعلقہ واقعہ میں پولیس نے 5 علحدہ علحدہ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران جناب عابد رسول خان نے واضح کیا کہ عرش محل کے واقعہ کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہوئی ہے اور تحقیقات کا عمل جاری رکھتے ہوئے سفارشات حکومت کو روانہ کی جارہی ہیں تاکہ متاثرین کو راحت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ انصاف رسانی کے عمل کو بہتر بنایا جاسکے۔