حیدرآباد ۔ /22 اپریل (سیاست نیوز) قومی انسانی حقوق کمیشن نے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں سہ روزہ ’’کھلی سماعت‘‘ اور ’’کیمپ نشست‘‘ کا اہتمام کیا ۔ آلیر میں حالیہ انکاؤنٹر میں وقار اور 4 دیگر زیردریافت قیدیوں کی مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے خلاف مہلوکین کے ارکان خاندان نے کمیشن سے رجوع ہوکر اس واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بناتے ہوئے خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ مجلس بچاؤ تحریک کے سابق کارپوریٹر امجد اللہ خان خالد کی قیادت میں مہلوک ڈاکٹر حنیف کی اہلیہ اور ان کے بچوں نے کمیشن سے نمائندگی کرتے ہوئے اسے پولیس ظلم قرار دیا اور کہا کہ فرضی انکاؤنٹر کے ذریعہ ان کے شوہر کو موت کی نیند سلادیا گیا ہے ۔
مسٹر خالد نے اس موقعہ پر کمیشن کے چیرمین جسٹس کے جی بالاکرشنن سے کی گئی تحریری نمائندگی میں بتایا کہ /7 اپریل کو 5 زیردریافت قیدی وقار احمد ، سید امجد علی ، محمد ذاکر ، ڈاکٹر محمد حنیف اور اظہار خان کو آلیر اور جنگاؤں کے درمیان پولیس پارٹی نے حیدرآباد کی عدالت کو منتقلی کے دوران فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ پولیس نے نوجوانوں کی ہلاکت کے ذریعہ سیمی کے کارکنوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے تین پولیس ملازمین کے خون کا بدلہ لیا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ نوجوانوں کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور ہر مہلوک نوجوان کے جسم پر 15 گولیوں کے نشان پائے گئے ۔ انہوں نے یہ واضح طور پر چیرمین انسانی حقوق کمیشن کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ فارنسک جانچ اور دیگر شواہد کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ انکاؤنٹر فرضی ہے اور حکومت اس معاملے کو رفع دفع کرنے کیلئے کوششیں کررہی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سی بی آئی انکوائری یا برسرخدمت ہائیکورٹ جج سے تحقیقات کیلئے گریز کررہی ہے اور خاطی پولیس عہدیداروںکی پشت پناہی کررہی ہے ۔ مسٹر خالد نے کمیشن سے یہ مطالبہ کیا کہ انکاؤنٹر میں ملوث تمام پولیس عہدیداروں کے موبائیل فون کے ریکارڈس حاصل کئے جائیں تاکہ حقائق کو منظر عام پر لایا جائے ۔
ڈاکٹر حنیف کی اہلیہ عشرت بانو نے بھی چیرمین انسانی حقوق کمیشن سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر کا انکاؤنٹر نہیں بلکہ سفاکانہ قتل ہے اور پولیس نے منصوبہ بند طریقہ سے یہ کارروائی انجام دی ۔ عشرت بانو نے جسٹس کے جی بالاکرشنن کو مہلوکین اور انکاؤنٹر کے مقام کے تصاویر دکھائے جس پر چیرمین نے پولیس کی اس کارروائی پر حیرت ظاہر کیا اور اس انکاؤنٹر کے سلسلے میں حکومت کو پہلے ہی نوٹس دیئے جانے کی بات بتائی اور انہیں انصاف کا یقین دلایا ۔ مسٹر امجد اللہ خان خالد نے کمیشن سے مزید دو واقعات سے متعلق بھی نمائندگی کی جس میں /10 اکٹوبر 2014 ء کو ملٹری علاقہ میں فوجیوں کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے والے 11 سالہ کمسن شیخ مصطفی الدین قتل کیس میں پولیس کی ناکامی اور فوجیوں کے خلاف کارروائی سے واقف کروایا ۔
انہوں نے ایک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعہ سے متعلق نمائندگی کی جس میں ضلع رنگاریڈی دوما پولیس کی لاپرواہی کے سبب بیوہ خاتون رحیمہ بی نے خودکشی کی ۔ قبل ازیں کمیشن نے آج 61 مقدمات کی سماعت کی جس میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ایس سی طالبعلم ایم وینکٹیشورلو کی خودکشی کا کیس بھی شامل ہے ۔ اس کیس میں کمشنر پولیس سائبرآباد مسٹر سی وی آنند نے راست طور پر کمیشن کے روبرو حاضر ہوکر وینکٹیشورلو کی خودکشی کیس کی پیشرفت سے واقف کروایا ۔ جسٹس مرگیسن نے اس کیس کی سماعت کی اور کمشنر پولیس سائبر آباد کو اس کیس سے متعلق تمام تفصیلات کمیشن کو فراہم کرنے کی ہدایت دی اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اندرون 4 ہفتے کارروائی کی ہدایت دی ۔ /23 نومبر 2013 ء میں وینکٹیشورلو جو پی ایچ ڈی کا طالبعلم تھا اور یونیورسٹی کی جانب سے گائیڈ کی عدم فراہمی سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی ۔