ظالموں نے ہمارے گھر کا ذمہ دار شخص چھین لیا۔ پونہ میں شہید آئی ٹی ماہر محسن شیخ کے بھائی کا تاثر
غریب خاندان کی مدد کرنے ہمدردان ملت سے احباب کی اپیل
حیدرآباد ۔ 7 جون ۔ وہ اپنے والدین اور خاندان کے لئے محنت کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس کرتا تھا۔ ویسے بھی شولاپور سے پونہ وہ اس لئے آیا تھا کہ اپنے غریب ماں باپ کو خوشیاں دے سکے۔ اس کی ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ گھر والوں کے چہروں پر خوشیاں کھلتی رہیں۔ کسی کو بھی کوئی فکر و غم نہ رہے اور زندگی کا سفر بڑی آسانی سے طئے ہو۔ اس نے ایک خوشحال زندگی کو یقینی بنانے حتی المقدور کوشش بھی کی لیکن 2 جون کی شب فرقہ پرست درندوں نے اس کا بے رحمانہ انداز میں قتل کرتے ہوئے اس کے ارمانوں، خواہشات کا بھی گلا گھونٹ دیا۔ قارئین ہم پونہ میں فرقہ پرستوں کے ہاتھوں شہید ہوئے 28 سالہ شریف النفس نوجوان محسن شیخ کی بات کررہے ہیں جن کے والدین نے اپنے بیٹے کیلئے کئی سپنے سجا رکھے تھے۔ انہیں امید تھی کہ ہمیشہ مسکراہٹیں بکھرنے والا ان کا بیٹا ایک دن ترقی کامیابی و کامرانی کی بلندیوں کو چھو لے گا کیونکہ محسن کے لئے معصوم چہرہ پر کھیلنے والی مسکراہٹ انہیں یہ پیام دیتی کہ ان کے بیٹے کی محنت ایک دن رنگ لائے گی۔ ترقی و خوشحالی ان کے قدم چومے گی لیکن افسوس ایسا نہ ہوسکا۔ ظالموں نے پابند صوم و صلوٰۃ والدین کے فرمانبردار اور بھائی بہنوں، دوستوں و رشتہ داروں سے پیار اور ان کی عزت و احترام کرنے والے اس نوجوان کو موت کی نیند سلادیا۔ محسن شیخ کا خاندان 5 ارکان پر مشتمل ہے اور وہ اپنے خاندان کیلئے کمائی کا واحد ذریعہ تھے۔ ایک اچھی زندگی کا خواب لئے ہی محسن شیخ شولاپور سے پونہ آئے تھے۔ محسن شیخ نے حال ہی میں اپنے بھائی کو شولاپور سے بلا کر پونہ میں نوکری دلائی تھی۔ شہید محسن شیخ کے چھوٹے بھائی مبین شیخ نے روتے ہوئے بتایا ’’ہمیں یقین نہیں آرہا ہیکہ بھائی جان اب اس دنیا میں نہیں رہے‘‘ وہ تو ہمارے خاندان میں واحد کمانے والے تھے۔ انہوں نے مجھے بھی کپڑے کی ایک دکان میں نوکری دلائی تھی اور ہم دونوں بھائی پونہ کے ہرپسر میں ایک کرایہ کے مکان میں مقیم تھے۔ مبین شیخ کا یہ بھی کہنا ہیکہ ان کے بھائی جان نے یارڈ ورک نیٹ ورکنگ میں ایک سرٹیفکیٹ کورس کیا تھا اور اجول انٹرپرائزس نامی ایک فرم میں کام کررہے تھے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک انٹرنیشنل کال سنٹر میں ملازمت کے لئے انٹرویو بھی دیا تھا اور انٹرویو میں شاندار مظاہرہ پر کافی خوش تھے۔ انہیں امید تھی کہ زندگی میں خوشحالی آنے والی ہے لیکن ہمارا سب کچھ تباہ ہوگیا۔ فرقہ پرستوں نے ہمارے غریب ماں باپ سے ان کا چہیتا بیٹا ہم بھائی بہنوں سے ایک مدد کرنے والا بھائی چھین لیا۔ مبین نے سسکیاں لیتے ہوئے یہ بھی دریافت کیا کہ آخر میرے بھائی جان کا قصور کیا تھا؟ اس سوال کا جواب خود دیتے ہوئے وہ کہنے لگا …!! یہی نہ کہ وہ مسلمان تھے۔ ان کے چہرہ پر داڑھی اور سر پر ٹوپی تھی۔ مبین نے یہ بھی بتایا کہ بھائی جان کی ملازمت کرنے کے باعث ان کے والد صادق شیخ نے اپنی ایس ٹی ڈی کی شاپ بند کردی تھی لیکن بھائی جان کی شہادت نے اب انہیں دوبارہ ایس ٹی ڈی شاپ کے دروازے کھولنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ بھائی جان (محسن شیخ) ہر ماہ پابندی سے اپنے گھر رقم بھیجا کرتے تھے جس سے گھر کا سارا خرچ چلتا رہتا۔ شیخ محسن کے اخلاق و کردار سے ہر کوئی متاثر تھا۔ اجول انٹرپرائزس کے مالک سجیت متل کا کہنا ہیکہ یہ واقعہ انتہائی بدبختانہ ہے۔ ہم نے اپنے ایک محنتی اور اچھے ملازم کو کھویا ہے۔ وہ گذشتہ چار برسوں سے اس فرم میں کام کررہے تھے۔ سجیت متل کے خیال میں وہ اپنے تمام ملازمین میں سب سے زیادہ بھروسہ محسن شیخ پر کرتے تھے اور اس قابل نوجوان نے بھی بحیثیت آئی ٹی منیجر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ متل کا کہنا ہیکہ محسن شیخ کی محنت، دیانت اور سچائی سے ہر کوئی متاثر تھا۔ وہ ہر ماہ دو مرتبہ اپنے والدین سے ملاقات کیلئے جاتے۔ محسن شیخ کے ساتھیوں کا جن میں غیرمسلموں کی اکثریت ہے کہنا ہیکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں جیسا رہتے۔ دوسری جانب سیکولر غیر سرکاری تنظیموں نے ممبئی کے آزاد میدان میں دھرنا دیتے ہوئے آئی ٹی ماہر محسن شیخ کی شہادت پر افسوس و صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے ریاڈیکل ہندو تنظیم ہندو راشٹریہ سینا پر پابندی عائد کرنے اور شہید نوجوان کے ورثاء کو 15 لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ شہید محسن شیخ کے والد صادق شیخ کے احباب محمد عبدالباری، سید شجاعت علی ہاشمی اور شاہنواز بیگ نے بھی ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان سے ربط پیدا کرتے ہوئے اس غریب خاندانوں کی مالی مدد کی اپیل کی اور کہا کہ روزنامہ سیاست کے ذریعہ ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں کی بھرپور مدد کی جاتی ہے۔ ایسے میں وہ چاہیں گے کہ ملک و بیرون ملک پھیلے ہوئے قارئین سیاست اور ہمدردان ملت اور انسانیت دوست مرد و خواتین اور ادارے اس شہید نوجوان کے غریب خاندان کی مالی مدد کیلئے آگے آئیں۔ محسن شیخ شہید کے والد صادق شیخ کے بنک اکاونٹ کی تفصیلات اس طرح ہیں۔
SHAIK MD SADIQUE
UNION BANK OF INDIA
CAMP BRANCH SOLAPUR
SB A/C NO. 401302010001784
IFSC CODE – UBINO 532177
MOBILE NO. 09764411085