تشدد میں ملوث 200 افراد کے خلاف کیس درج
میرٹھ۔ 11؍مئی (سیاست ڈاٹ کام)۔ اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں ایک مسجد کے قریب پانی کی ٹانکی تعمیر کرنے کے مسئلہ پر دو طبقات کے درمیان تصادم اور بعد ازاں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اُٹھنے کے بعد آج بعض دیگر علاقوں میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ کل کے واقعہ میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ آج کی جھڑپوں میں مزید 7 افراد زخمی بتائے گئے ہیں۔ پولیس نے تشدد میں ملوث تقریباً 200 افراد کے خلاف کیس درج رجسٹر کرلیا ہے۔ شہر میں سکیوریٹی بڑھادی گئی ہے۔ ریاپڈ ایکشن فورس کی 8 کمپنیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
پی اے سی کی 6 کمپنیاں بھی تعینات ہیں۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس اومکار سنگھ نے کہا کہ دونوں طبقوں کے درمیان تصادم میں 7 افراد زخمی ہوئے۔ ان میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ دونوں جانب کے لوگوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ بھی کی تھی۔ غیر مصدقہ اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ اس تشدد میں 24 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واقعہ میں ملوث افراد کی ویڈیو تصاویر کی مدد سے شناخت کی جارہی ہے۔ اومکار سنگھ نے کہا کہ خاطیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جارہی ہے۔ تشدد کے بعد شہر کے بعض حصوں میں کشیدگی پیدا ہوئی۔