کانگریس تنہا مقابلہ کرے گی ‘ بی جے پی امیدوار کو تلگودیشم کی تائید ‘ ٹی آر ایس کیلئے وقار کا مسئلہ
حیدرآباد ۔ 24؍ اگسٹ ( پی ٹی آئی) حلقہ لوک سبھا میدک کے مجوزہ ضمنی انتخابات میں سخت مقابلہ متوقع ہے اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں ایک سخت انتخابی لڑائی کیلئے تیار ہو رہی ہیں ۔ کانگریس کے ایک جنرل سکریٹری ‘ تلنگان و آندھراپردیش میں اس کے تنظیمی اُمور کے انچارج ڈگ وجئے سنگھ نے واضح کر دیا ہے کہ کسی سے مفاہمت نہیں کی جائیگی اور کانگریس تنہا مقابلہ کرے گی۔ متحدہ آندھراپردیش میں لوک سبھا اور اسمبلی کے بیک وقت منعقدہ انتخابات میں تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے لوک سبھا حلقے میدک اور حلقہ اسمبلی گجویل سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اور اسمبلی نشست پر برقرار رہتے ہوئے لوک سبھا کی نشست سے مستعفی ہوگئے تھے جس کے نتیجہ میں ضمنی انتخاب کا انعقاد ضروری ہوگیا ہے ۔ اسی دوران کانگریس کے امکانی امیدواروں کی حیثیت سے سابق وزیر سنیتا لکشما ریڈی اور ٹی جیا پرکاش ریڈی (جگا ریڈی) کے نام گشت کر رہے ہیں ۔ این ڈی اے میں حلیف دو جماعتیں تلگودیشم اور بی جے پی توقع ہے کہ اس ضمنی انتخاب میں مفاہمت برقرار رکھیں گی ۔ توقع ہے کہ تلگودیشم کی تائید سے بی جے پی اس حلقہ سے اپنا امیدوار نامزد کرے گی ۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے حالیہ دورہ حیدرآباد کے موقع پر صدر تلگودیشم پارٹی آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو سے اس مسئلہ پر بات چیت کی تھی ۔ تلنگانہ میں حکمراں ٹی آر ایس کے لئے یہ وقار کا مسئلہ ہے کیونکہ اس کی رکنیت سے پارٹی صدر کی سبکدوشی کے سبب مخلوعہ ہوئی ہے ۔ باور کیا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کے امکانی امیدوار کی حیثیت سے تلنگانہ این جی اوز یونین لیڈر دیوی پرساد کو اُمیدوار نامزد کیا جاسکتا ہے ۔ اس حلقہ میں 13؍ ستمبر کو رائے دہی ہوگی ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 27 ؍ اگسٹ ہے ۔ 16 ؍ ستمبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔