قواعد پر عمل آوری کے بغیر رجسٹریشن کی منسوخی مہنگی ثابت ہوئی
حیدرآباد ۔ 17۔ اپریل (سیاست نیوز) میاں پور اراضی اسکام کے سلسلہ میں بعض اعلیٰ عہدیداروں کی جلد بازی میں کئے گئے فیصلوں کا خمیازہ حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ خانگی افراد کے حق میں 810 ایکر اراضی کی غیر قانونی رجسٹریشن کا معاملہ ٹی آر ایس حکومت کی مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔ اراضی کی رجسٹری کے مسئلہ پر ہائی کورٹ نے تلنگانہ حکومت کو جھٹکا لگا اور عدالت نے حکم التواء جاری کردیا ۔ اسکامس سے خود کو باہر نکالنے کے لئے ٹی آر ایس حکومت نے حقیقی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے شاٹ کٹ طریقے استعمال کئے۔ اس امید کے ساتھ کہ وہ اسکام سے ابھر پائے گی ۔ میاں پور اراضی اسکام جس کی مالیت 15,000 کروڑ ہے، مئی 2017 ء میں منظر عام پر آیا تھا جس میں ٹی آر ایس قائدین اور چیف منسٹر کے بعض قریبی مددگاروں کے نام شامل تھے۔ ان پر خانگی افراد کے ذریعہ سرکاری اراضیات کی خریدی کا الزام ہے۔ ابتداء میں ایک ماہ تک حکومت خاموش رہی ، بعد میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ٹی آر ایس کے سینئر قائد کے کیشو راؤ ، ان کی دختر ، چیف منسٹر کے قریبی مددگار ڈی دامودر راؤ کے ملوث ہونے کی اطلا ع پر جون 2017 ء میں کارروائی کی ۔ کے سی آر نے ریونیو اور پولیس عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اسکام نہیں ہوا اور ایک گز سرکاری اراضی بھی کسی کے حوالے نہیں کی گئی ۔ چیف منسٹر زور دے کر کہا تھا کہ جس اراضی پر تنازعہ ہے اور خانگی افراد دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ حکومت کی تحویل میں ہے۔ کے سی آر حکومت نے اراضی کے رجسٹریشن کی گہرائی میں گئے بغیر رجسٹری کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ۔ اس سلسلہ میں درکار ضروری ، قانونی شرائط کی تکمیل نہیں کی ۔ حکومت اس حقیقت کو فراموش کردیا کہ رجسٹری کے دستاویزات کو بے اثر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ قانونی دستاویز ہے۔ عہدیداروں کی اس عجلت پسندی کے نتیجہ میں معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا جہاں رجسٹریشن کی مسوخی کو چیلنج کیا گیا۔ اس اراضی کے سلسلہ میں نظام اور پائیگاہ خاندانوں کے وارثین نے بھی اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کی یکسوئی تک حکم التواء جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔