مہ نے شق ہوکر لیا ہے دین کو آغوش میں

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

جب ہجرت کا حکم ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکثر اہل ایمان نے بھی رخت سفر باندھااور مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کرگئے۔ مدینۃالمنورہ کی مبارک سرزمین اشاعت اسلام کیلئے بڑی زرخیز ثابت ہوئی۔ نبوت کے گیارھویںسال جبکہ حج کا موسم تھا، رات کی تاریکی نے بسیرا کررکھا تھا، اس تاریکی کی دبیز چادر سے روشنی کی کرن پھوٹنے کے اسباب مہیا ہوئے،چنانچہ مقام عقبہ پر کچھ لوگ جمع تھے اور ان کی کانا پھوسی کی بھنبھناہٹ کانوں تک پہنچ رہی تھی، اس آواز پر نبی مکرم ﷺ نے توجہ فرمائی اور ان تک پہنچ کر ان کو پیغام حق سنایا ، اللہ سبحانہ کی عظمت و جلال، اس کی بڑائی و کبریائی اور اس کی قدرت و سلطنت کا بیان فرماکر ان کے دلوں کو گرمایا، توحید کی حقانیت و صداقت بیان فرمائی، اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ اصنام کی بے بسی و مجبوری کا تذکرہ فرماکر اس کی طرف غوروفکر کی دعوت دی، نیکی و پارسائی، خیر و بھلائی کی خوبیاں بیان فرمائی، گناہوں اور برائیوں کی قباحت شناعت دلنشین کرائی اور ان سے دور ہوجانے کی تلقین فرمائی، قرآن مقدس کی آیات پاک تلاوت فرماکر ان کے قلوب میں توحید کا دیا روشن فرمایا۔ ان پاکیزہ ہدایات و تعلیمات نے ان کو اسلام سے قریب کردیا، وہ رہنے والے یثرب کے تھے وہ اگرچہ کہ اصنام پرست تھے لیکن انہوں نے اپنی بستی کے یہودیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آمد کا بارہا تذکرہ سنا تھا اور نبی آخر الزماں کی آمد کی خوشخبری کے نغموں نے ان کے کانوں میں پہلے ہی رس گھول دیا تھا بس پھر کیا تھا اسلام ان کے دلوں میں اتر گیا ان کے باطن سے اس پیغام حق کی صداقت سنائی دینے لگی، بے ساختہ ان کے دل کی آواز زبان پر آگئی اور وہ ایمان کے نور سے فیض یاب ہوگئے اور یہی ایمان کی روشنی لیکر وہ اپنے وطن یثرب پہنچے اور اس ایمان کے نور کی کرن کو دوسرے دلوں میں روشن کرنے کا ذریعہ بن گئے۔

شب و روز اب ان کا یہ مشغلہ بن گیا کہ وہ ہر ایک کو نبی آخر الزماںﷺ کی آمد کی خوشخبری کا پیغام حق سناتے ، آپﷺ سے جو کلام حق سنا تھا اس کی شیرینی و حلاوت کا تذکرہ کرتے اور آپﷺ کے دیدارپاک سے آنکھوں کو جو ٹھنڈک نصیب ہوئی ہے اس کی راحت ومسرت کا بیان کر کے دوسروں کے دلوں میں بھی اس کی چاہت پیدا فرماتے اور آپﷺ نے معبودان باطل کی اسیری سے رہائی دلا کر جو اُن کو معبود برحق کی بارگاہ قدس میں پہنچا دیا ہے، اس حقیقت کا اظہار کر کے اوروں کے دلوں میں بھی پیغام توحید کا تخم بوتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک کی زبان پر آپﷺ کا تذکرہ تھا ، گھر گھر اگر کوئی چرچا تھا تو وہ پیغمبر آخرالزماں سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، آپﷺ سے ملاقات اور آپﷺ کے دیدار کی تمنا کے اشتیاق میں کئی دل مچلنے لگے اور کئی ایک پر لگا کر آپﷺ تک اُڑ کر پہنچنے کی تمنا میںبے چین و مضطرب ہوگئے چنانچہ نبوت کے بارہویں سال بارہ افراد یثرب کی بستی سے سفر کرکے آپﷺ کی خدمت میں مکۃالمکرمہ پہنچے، انکے دلوں میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی محبت کا تخم پہلے ہی بویا جاچکا تھا، اب وہ شجر بن کر برگ و بار لاچکا تھا۔ آپﷺ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کرنے میں ان کو کچھ دیر نہیں لگی بس وہ آپﷺ کی فیضان صحبت اور آپﷺ کی دیدار کی نعمت سے مشرف ہوکر ایمان کی نعمت سے سرشار ہوگئے۔ ایمان کی حلاوت و شیرینی سے ان کے قلوب ایسے معمور ہوگئے تھے کہ اس کی خوشی و مسرت کی زمزمہ سنجی ان کی زبانوں سے سنائی دی جانے لگی،ایمان کی نعمت سے معمور بس ایک ہی پیغام حق کی آواز مدینہ میں گونج رہی تھی وہ سب کو یہ خوشخبری سنا رہے تھے کہ سنو! سنو! وہ نبی محترم ﷺ تشریف لا چکے جن کا ساری دنیا کو انتظار تھا ہم نے بہ چشم خود ان کے دیدار سے آنکھوں کو ٹھنڈی کیا ہے، ان کا کلام حق ترجمان ہماری کانوں کی راہ سے دلوں میں جگہ بنا چکا ہے، ایمان کے نور کی تابندگی سے قلب و نگاہ روشن ہوگئے ہیں۔ یثرب کے یہ باشندے جب ایمان سے مشرف ہوکر واپس جانے لگے تو آپﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کی تعلیم کیلئے ان کے ساتھ کردیا تھا، وہ مصعب بن عمیر جو مالدار گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ بڑی قیمتی پوشاک پہنا کرتے تھے وہ اب ایمان کی معرفت پاکرسادہ لباس زیب تن کئے ہوئے تھے جو کمبل سے بنا تھا اور جس کو کیکر کے کانٹوں سے جوڑ کر اپنے جسم کی پردہ پوشی کا ذریعہ بنالیا تھا۔

ان کی اور ایمان سے مشرف ایمان والوں کی کوششوں سے مدینہ پاک کا ایک بااثر قبیلہ بنو عبد الاشہل مشرف بہ اسلام ہوگیا اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے اسلام کا پاکیزہ پیغام انصار کے ہر گھر میں پہنچ گیا۔ یثرب کی ساری بستی میں اگر کوئی تذکرہ سنا جارہا تھا تو وہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا تھا۔ ابھی آپﷺ ہجرت فرماتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ اثناء راہ بریدہ اسلمی کا سامنا ہوگیاوہ اپنی قوم کا سردار تھا، کفار قریش جو آپﷺ کے دشمن ہوگئے تھے چراغ نبوت کو گل کردینے کا منصوبہ بناچکے تھے اللہ سبحانہ کی حفاظت و پناہ کی وجہ ان دشمنان اسلام کے منصوبہ پر پانی پھر گیا تھا، انہوں نے آپﷺ کو گرفتار کرکے لانے والے کیلئے ایک سو سرخ اونٹ کے انعام کا اعلان کیا تھا اور بریدہ اسلمی اسی انعام کی تمنا میں نکل پڑاتھا، لیکن جیسے ہی آپﷺ سے نگاہیں دوچار ہوئیںاس نگاہ فیض ترجمان نے حق و صداقت کا نور بریدہ اسلمی کی نگاہوں سے ہوتے ہوئے دل کی گہرائیوں میں ایسے اتر گیاکہ بے ساختہ کلمہ اسلام ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ اس کی زبان سے جاری ہوگیا ، اپنے قبیلہ کے ستر اور افراد کیلئے بھی وہ ایمان لانے کا ذریعہ بن گئے، اب ان کی مسرت و شادمانی کا یہ عالم تھا کہ اپنی سفید پگڑی نیزہ کے سرے پر باندھ لی اور یہ مسرت بھرا پیغام سنانے لگے کہ ایمان کی نعمت اور امن و امان کی برکت دینے والے پیغمبر اسلامﷺ دنیا میں تشریف لا چکے، دلوں کو جوڑنے والے، مردہ دلوں کو زندہ کرنے والے، صلح کرکے غلط فہمیوں کو دور کرنے والے، ٹوٹے دلوںکو جوڑنے والے، محبت سے سرشار کرنے والے، ظلم و جور کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف سے دنیا کو بھرنے والے بادشاہ وقت تشریف لاچکے ہیں۔ آپﷺ کے مدینہ منورہ پہنچنے سے بہت پہلے یثرب کی سرزمین اسلام کی آبیاری کیلئے ہموار ہوچکی تھی۔ قبا کی بستی میں پہلے آپﷺ کا قیام ہوا ، اس بستی میں آپﷺ کے تین روزہ قیام کی وجہ یثرب کے باشندوں کے دلوں میں آپﷺ سے ملاقات اور آپﷺ کے دیدار کا اشتیاق اور بڑھ گیا۔

پھر آپﷺ روز جمعہ قبا کی بستی سے نکل کر یثرب کاارادہ فرمایا، اثناء راہ آپﷺ نے جمعہ کی نماز ادا فرمائی اور پھر یثرب میں رونق افروز ہوئے، آپﷺ کی قدم رنجہ فرمائی کے ساتھ ہی اب یثرب، یثرب نہیں رہا بلکہ اس کا نام مدینۃ النبی ہوگیا۔ پھر کیا تھا مدینۃ المنورہ کی گلی کوچوں میں اللہ سبحانہ کی حمد و تقدیس کی صدائیں گونج رہی تھیں، انصار کی معصوم بچیاں خوشی و مسرت کے ترانے گارہی تھیں، تھوڑے سے عرصہ میں مدینۃالمنورہ کا ایک بہت بڑا حصہ ایمان کے نور سے معمور ہوگیا، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ مکۃالمکرمہ سے پہلے مدینۃالمنورہ ایمان کے نور سے معمور اور امن و امان کا گہوارہ بن جائے، پھر وہ اسباب بنے کہ اللہ سبحانہ نے فتح مکہ کے اسباب بنائے اس طرح مدینۃالمنورہ کے بعد مکۃ المکرمہ بھی اسلام کی آغوش رحمت میں آگیا۔ بعد ازاں اسلام کی روشنی سے سارا عالم جگمگا گیا اور اس شعر کے مطابق وہ سارے عالم کا مقدر بن گیا۔
معجزہ شق القمر کا ہے مدینہ سے عیاں
مہ نے شق ہوکر لیا ہے دین کو آغوش میں