حیدرآباد ۔ 13؍اپریل (سیاست نیوز) ریاستی سی پی آئی نے تلنگانہ میں سی پی آئی کانگریس انتخابی مفاہمت کی روشنی میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سی پی آئی کو دی گئی نشستوں پر مقابلہ کرنے والے کانگریس پارٹی قائدین کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور سی پی آئی امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات کرنے کا صدر تلنگانہ کانگریس پارٹی سے پرزور مطالبہ کیا ۔ مسٹر سی ایچ وینکٹ ریڈی کنوینر سی پی آئی تلنگانہ الیکشن کمیٹی نے بتایا کہ تلنگانہ میں کانگریس ۔ سی پی آئی اتحاد کے ایک حصہ کے طور پر کانگریس ہائی کمان نے ایک لوک سبھا اور (10) اسمبلی حلقہ جات سی پی آئی کو دینے سے اتفاق کیا تھا ۔ لیکن بعدازاں سینئر کانگریس پارٹی قائدین مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے سی پی آئی قومی قیادت کو ایک لوک سبھا اور (9) اسمبلی حلقہ جات دینے سے واقف کروایا تھا ۔
اور واضح کہا تھا کہ اگر کانگریس ٹی آر ایس انتخابی مفاہمت بھی ہونے کی صورت میں ان دس نشستوں یعنی ایک لوک سبھا اور 9 اسمبلی حلقہ جات کسی بھی صورت میں سی پی آئی کو مختص کئے جائیں گے ۔ لیکن بعدازاں دہلی میں سی پی آئی کے لئے ایک لوک سبھا اور 7 اسمبلی حلقہ جات کا اعلان کیا گیا ۔ اور ان سات اسمبلی حلقوں میں بھی ایک اسمبلی حلقہ مہیشورم کے لئے مسٹر ایم رنگاریڈی کو عقبی دروازہ سے پارٹی کا بی فارم حوالہ کر دیا گیا ۔ جوکہ انتخابی اتحاد کی صریحاً خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔ انہوں نے مسٹر ایم رنگاریڈی کی جانب سے انتخابی مقابلہ سے دستبرداری اختیار کرنے سے انکار کئے جانے پر ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کر کے سی پی آئی امیدوار حلقہ اسمبلی مہیشورم سے مسٹر عزیز پاشاہ کی تائید کرنے کے لئے اعلان جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔