مہنگائی پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی،لوک سبھا کی کارروائی ملتوی

بی جے پی اور این ڈی اے کے نعرے ’’اچھے دن آئیں گے ‘‘کا مضحکہ،اپوزیشن جماعتوں کا واک آوٹ ،موجودہ صورتحال کیلئے یو پی اے ذمہ دار :جیٹلی

نئی دہلی 7 جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) بجٹ سیشن کے آج پہلے دن پارلیمنٹ مہنگائی کے مسئلہ پر دہل گئی جہاں لوک سبھا میں اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی بالکل چلنے نہیں دی دوسری طرح راجیہ سبھا میں حکومت نے موجودہ صورتحال کیلئے یو پی اے دور حکومت کو مورد الزام قرار دینے کی کوشش کی۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج راجیہ سبھا میں کہا کہ حکومت افراط زر پر قابو پانے کیلئے پابند عہد ہے کیونکہ ہم اسے ایک سنگین اور سنجیدہ معاملہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آلو اور پیاز کی خاطر خواہ سربراہی ہورہی ہے اور اس معاملہ میں پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ وہ ایوان میں مہنگائی پر مباحث کا جواب دے رہے تھے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کا مضحکہ اڑاتے ہوئے صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تنقید کی۔ ارون جیٹلی کے جواب سے غیر مطمئن کانگریس زیر قیادت اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واٹ آوٹ کیا۔ ان میں بی ایس پی، ترنمول کانگریس اور سی پی آئی ایم بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بی جے پی اور این ڈی اے کے انتخابی نعرے ’’ اچھے دن آئیں گے ‘‘ کا بھی مضحکہ اڑایا اور کہا کہ کیا غذائی اشیاء جیسے پیاز اور آلو کی قیمتوں میںاضافہ، ریل کرایوں اور شرح بار برداری میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہی اچھے دنوں کے وعدے تھے۔ لوک سبھا میں بھی کانگریس اور دیگر جماعتوں کی جانب سے قیمتوں پر پیش کردہ تحریک التواء پر مباحث کیلئے زور دیا جاتا رہا اور ایوان کی کارروائی بار بار ملتوی کی گئی ۔ راجیہ سبھا میں مختصر وقت کیلئے مباحث کے دوران حکومت نے غذائی اشیاء، ریل کرایوں اور تیل کی قیمتوں پر اضافہ کیلئے پیشرو حکومت کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اسے یہ سب ’’ورثے ‘‘ میں ملا ہے ۔ جیٹلی نے اپنے جواب میں کہا کہ 41 دن کی نریندر مودی حکومت نے غذائی اشیاء کی قیمتوں پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کئے جبکہ پیشرو دور حکومت میں ایسا نہ ہونے کی وجہ سے پیاز کی قیمت 100 روپئے تک بھی چلے گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تنقید کا نشانہ ابھی سے بنایا جارہا ہے حالانکہ اس نے اپنا مالیاتی روڈ میاپ پیش بھی نہیں کیا ۔ ریل بجٹ کل اور عام بجٹ جمعرات کو پیش کیا جانے والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غذائی اشیاء کی قیمتیں قابو میں ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔قبل ازیں اپوزیشن نے تحریک التواء کے تحت مباحث پر شدید اصرار کیا تھا۔ ایوان میں شوروغل کے دوران صرف دو سوالوں کے جواب دیئے جاسکے۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، سماج وادی پارٹی، عام آدمی پارٹی اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے ارکان قیمتوں میں اضافہ اور ریل مسافر کرایوں میں اضافہ کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان میں وسط میں جمع ہوگئے۔ اپوزیشن تحریک التواء کے تحت مباحث پر اصرار کررہا تھا، لیکن اسپیکر سمترا مہاجن نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قاعدہ 193 کے تحت مباحث منعقد کئے جائیں گے جس کے بعد رائے دہی لازمی نہیں ہوتی۔ کانگریس قیمتوں میں اضافہ پر اور ترنمول کانگریس ریل سفر کرایوں میں اضافہ پر تحریک التواء کے تحت مباحث پر مُصر تھے جس کے نتیجہ میں رائے دہی لازمی ہے اور اگر تحریک التواء منظور ہوجائے تو حکومت کی سرزنش بھی ممکن ہے۔ ایوان پہلے 2 بجے دن تک ملتوی کردیا گیا اور اجلاس کے دوبارہ آغاز پر تعطل برقرار رہا۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو نے قیمتوں میں اضافہ پر تشویش میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ پر مباحث کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے قاعدہ کا فیصلہ جس کے تحت مباحث کئے جائیں، اسپیکر پر چھوڑ دیا۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے تحریکات التواء کی نوٹسیں مسترد کردیں لیکن قاعدہ 193 کے تحت مباحث کی 6 نوٹسیں قبول کرلیں۔ بعدازاں انہوں نے احتجاج جاری رہنے پر اجلاس دن بھر کے لئے ملتوی کردیا۔ ٹی آر ایس ارکان پولاورم پراجیکٹ آرڈیننس کی مخالفت کررہے تھے۔