مہلت کے اختتام سے قبل تاریخی نیوکلیئر معاہدہ کی کوشش

ویانا۔23نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران اور عالمی طاقتوں کو آج سخت جدوجہد کا سامنا ہے تاکہ اُن کے اعلیٰ سطحی نیوکلیئر مذاکرات میں تعطل توڑ سکیں اور قطعی آخری مہلت کے اختتام سے قبل ایک تاریخی معاہدہ کو قطعیت دے سکیں۔ وزیر خارجہ امریکہ جان کیری نے کہا کہ ہم سخت جدوجہد کررہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ محتاط پیشرفت کریں گے لیکن بڑے بڑے جھول ہیں ‘ ہم اب بھی سنگین مسائل سے نمٹ رہے ہیں جن کی یکسوئی کیلئے ہم مصروف ہیں ۔ کیری نے جمعہ کے دن اپنا دورہ فرانس ملتوی کردیا تھا تاکہ مذاکرات کیلئے ویانا میں موجود رہیں ۔ انہوں نے وزیر خارجہ ایران محمد جواد ظریف سے کل دوپہر ملاقات کی ۔ یہ گذشتہ تین دن میں دونوں کی چوتھی ملاقات تھی ۔وزیر خارجہ جرمنی فرینک والٹر اسٹین میر بھی آسٹریا کے دارالحکومت میں موجود ہیں ۔ انہوں نے ہفتہ کے دن قطعی مذاکرات کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہینوں کی سودے بازی کے بعد ’’صداقت کا لمحہ ‘‘ آچکا ہے۔ تاریخی معاہدہ کے تحت ایران اپنے متنازعہ نیوکلیئر سرگرمیاں ترک کردے گا ۔

اس کے معاوضہ میں اسے برسوں کے بھاری بین الاقوامی معاشی تحدیدات کے بعد وسیع پیمانے پر راحت حاصل ہوگی ۔ ممکن ہے کہ 12سالہ تعطل جو اسرائیل کے فوجی حملوں کی وجہ سے پیدا ہوا تھا ختم ہوجائے ۔ ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر اسرائیلی فوج نے حملے کئے تھے ۔ جان کیری نے کل وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ۔ ایران کے ایک ذریعہ نے کہا کہ اختلافات ابھی بھی کافی وسیع ہیں اور سیاسی فیصلہ ضروری ہے ۔ عالمی طاقتیں رعایتوں میں موجود خلیج دور کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ایرانی مذاکرات کاروں نے تہران میں اپنے ملک کی قائم کردہ حدود کا احترام کرنے کی خواہش کرتے ہوئے معاہدہ کی کوششوں کی ستائش کی ۔ ایک یوروپی ذریعہ کے بموجب بات چیت میں کوئی نمایاں پیشرفت نہیں ہوئی اور معاہدہ ہونے کے امکانات کافی کم ہوگئے ہیں ۔ ایرانیوں کے ساتھ معاہدہ طئے کرنے کی کوشش میں یوروپ کو اپنا موقف کافی نرم کرنا پڑے گا ۔ آج علی الصبح قطعی آخری مہلت میں توسیع کی بات چیت بھی ممکن ہے ۔