مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرہ کی تشکیل کے لئے تعلیم ضروری

شاداں جونیر کالجس کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ، جناب محمد شاہ عالم رسول خان چیرمین شاداں ایجوکیشنل سوسائٹی کا خطاب
حیدرآباد۔8؍ جنوری۔ ( پریس نوٹ ) ۔ جناب محمد شاہ عالم رسول خان چیرمین شاداں ایجوکیشنل سوسائٹی کی صدارت میں شاداں جونیئر کالج فار بوائز خیریت آباد کا جائزہ اجلاس منعقدہوا جس میں پروفسیر احمد اللہ خان سابق و وائس چیرمین پی سی ایم بی (اکیڈیمک) ، پروفیسر پی جی ریڈی ، جناب رحمن شریف او ایس ڈی، جناب محمد آعظم پی آر او شاداں گروپ آف تعلیمی ادارے جات کے علاوہ شاداں جونیئر کالج گرلز پرنسپل محترمہ ملیحہ فاطمہ اورجونیئر کالج بوائز کے پرنسپل جناب محمد منیم اوردونوں کالجس کے تدریسی عملے نے شرکت کی۔ چیرمین سوسائٹی نے ڈاکٹر محمد وزارت رسول خان بانی و چیف پروموٹر شاداں گروپ آف تعلیمی ادارے جات کی تعلیمی تحریک اور تعلیمی انقلاب پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ شاداں جونیئر کالج فار گرلز و بوائز کا قیام 18؍ اگسٹ 1988ء میں عمل میں آیا جبکہ حیدرآباد میں جونیئر کالجس کا فقدان تھا اور ان دنوں مسلمانوں کی ابتر تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے جونیئر کالجس کا قیام عمل میں لایا۔ڈاکٹر صاحب کی انتھک کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ ہزاروں طلباو طالبات زیورِ تعلیم سے آراستہ ہونے لگے اور یہ سلسلہ الحمد للہ تاحال جاری ہے۔ ڈاکٹر صاحب معاشرہ کی تعلیم و تربیت اور روزگار سے مربوط کرنے کے لئے اپنے مقصد میں انتھک محنت کوششوں کی وجہ سے ترقی کی راہیں تلاش کرتے رہے اور انہیں کامیابی بھی ہوتی رہی۔ وہ طلبہ کی بہتر تعلیم و تربیت کیلئے تدریسی عملے اور اہم ذمہ داروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کرتے تاکہ طلبہ کی تربیت میں کسی قسم کی کمی ہو تو اسے دور کیا جائے۔ اسی طرح انہو ں نے دیگر تعلیمی ادارے قائم کرتے ہوئے آندھراپردیش میں تعلیمی اداروں کا ایک جال پھیلا دیا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر جونئیر کالجس، ڈگری کالجس، پوسٹ گرایجویٹ کالجس، ایم بی اے، ایم سی اے کالجس، بی فارمیسی، ایم فارمیسی، انجینئرنگ اور ایم ٹیک پوسٹ گرایجویٹ و میڈیکل کالجس، پیرامیڈیکل کالجس کا قیام عمل میں لایا ۔ جناب شاہ عالم رسول خان نے اپنے والد محترم کے قائم کردہ ان اداروں کی ترقی اور طلبہ کو مزید سہولتوں بہم پہنچانے کا تیقن دیا۔ انہوں نے بوائز و گرلز جونیئر کالجس کے طلبا و طالبات کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ لکچراز کو طلبہ پر بہتر سے بہتر تعلیم دینے اور انکی تعلیمی سرگرمیوں میں نکھار پیدا کرنے پر توجہ دلائی ۔ شاہ عالم رسول خان نے آئندہ تعلیمی سال سے جونیئر کالج میں ایمسٹ کراش کورس جو کہ بی بی سی ، ایم پی سی اور ایم ای سی طلبہ کے لئے CACPT کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ جس سے مستقبل میں پروفیشنل کورسس کے لئے کافی سہولت ہوگی اور روزگار کے مواقع فراہم ہونگے۔ پرنسپل بوائز کالج جناب محمد منیم نے ڈاکٹر محمد وزارت رسول خان مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ انہوں نے جواں سالہ نئے چیرمین جناب شاہ عالم رسول خان کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے مشن کو مزید مؤثر انداز میں ترقی دیں گے۔ انہو ںنے لکچرارس سے بھی خواہش کی کہ وہ طلبا و طالبات کے بہتر مستقبل کو مدّنظر رکھ کر تعلیم دیں ۔ پرنسپل گرلز کالج محترمہ ملیحہ فاطمہ نے بھی ڈاکٹر محمد وزارت رسول خان مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا اور نئے چیرمین کو مبارکباد دی اور تدریسی عملہ سے ان کا تعارف کروایا۔انہوں نے نئے چیرمین سے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کی شبانہ روز کاوشوں اور انتھک محنت کو مدّنظر رکھ کر ملت اسلامیہ کے ہونہار سپوتوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کریں گے۔ اس موقع پر لڑکیوں کے تعلیمی نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ ملیحہ فاطمہ نے کہا کہ شاداں تعلیمی ادارے جات ملک بھر کے دوسرے تعلیمی ادارے جات کے مثالی حیثیت رکھتے ہیں، اور ڈاکٹر صاحب نے جس طرح ان اداروں کو سینچا ہے اسے مزید مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے نئے چیرمین صاحب کے ساتھ تمام تدریسی و غیر تدریسی عملہ ساتھ دیں ۔ پروفیسر احمد اللہ خان نے گرلز و بوائز دونوں کالجس کے عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلباو طالبات کے بہتر مستقبل کے لئے ان میں ڈسپلن، پابندی وقت کے لئے توجہ دلائیں ۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کی تعلیم معاشرہ کی سدھار میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ پروفیسر خان نے کہاکہ جس طرح طالبات تعلیمی میدان میں نمایاں ترقی کررہے ہیں اسی طرح طلبا بھی تعلیمی میدان میں آگے ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اساتذہ انہیں محنت و جستجو پر توجہ دلائیں ۔