مہاراشٹرا و ہریانہ میں آج اسمبلی انتخابات

نئی دہلی 14 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مہاراشٹرا اور ہریانہ میں کل اسمبلی انتخابات کیلئے ووٹ ڈالے جائیں گے جو لوک سبھا انتخابات 2014 کے بعد وزیر اعظم نریند رمودی کی مقبولیت کی پہلی کڑی آزمائش سمجھے جا رہے ہیں۔ بی جے پی کو ان دونوں ریاستوں میں اقتدار دلانے کیلئے نریندر مودی نے زبردست انتخابی مہم چلائی تھی اور درجنوں انتخابی جلسوں اور ریلیوں سے خطاب کیا تھا ۔ علاوہ ازیں مہاراشٹرا میں شیوسینا ۔ بی جے پی اور کانگریس ۔ این سی پی کے مابین گذشتہ کئی برسوں سے جاری اتحاد کے ختم ہونے کے بعد بھی یہ پہلے انتخابات ہیں جہاں چاروں جماعتیں اپنے طور پر تنہا انتخابات میں مقابلہ کر رہی ہیں۔ کانگریس اور این سی پی نے گذشتہ 15 سال سے مسلسل ریاست پر حکمرانی کی ہے ۔ ہریانہ میں بھی کانگریس گذشتہ دس سال سے برسر اقتدار ہے

اور بی جے پی نے اس بار وہاں بھی ایڑی چوٹی کا زور لگادیا ہے اور وہ وہاں بھی اقتدار حاصل کرنے کیلئے ہر ممکنہ جدوجہد کرتی نظر آئی ہے ۔ یہاں بھی نریندر مودی نے کئی جلسوں سے خطاب کیا ہے ۔ رائے دہی کا آغاز صبح 7 بجے ہوگا اور شام 6 بجے تک ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ ووٹوں کی گنتی کا کام 19 اکٹوبر کو ہوگا ۔ ان انتخابات کے نتائج کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی نے صرف 10 دن کے وقت میں دونوں ریاستوں میں جملہ 38 انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے ۔ انہوں نے اس مہم کو عملا مودی بمقابلہ دیگر قائدین کا موقف دیدیا تھا ۔ دونوں ریاستوں میں کانگریس کی مہم پارٹی صدرسونیا گاندھی نے چلائی جبکہ این سی پی کیلئے شرد پوار نے ریاست بھر کے دورے کرتے ہوئے جلسے کئے ہیں۔ شیوسینا کیلئے اس کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور ان کے فرزند آدتیہ ٹھاکرے نے مہم چلائی ہے ۔ مہاراشٹرا میں پانچ رخی مقابلہ ہوسکتا ہے

جبکہ 288 رکنی اسمبلی کیلئے جملہ 8.25 کروڑ روائے دہندے 4,110 امیدواروں میں سے اپنی پسند کے امیدوار کا انتخابکرینگے ۔ ان میں جملہ 1,699 آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ کانگریس نے سب سے زیادہ 287 حلقوں سے امیدوار نامزد کئے ہیں جبکہ بی جے پی نے 280 امیدوار نامزد کئے ہیں جن میںاس کی حلیف جماعتوں کے 23 امیدوار بھی شامل ہیں ۔ یہ بھی بی جے پی کے انتخابی نشان پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ شیوسینا نے 282 حلقوں میں اپنے امیدوار نامزد کئے ہیں جبکہ این سی پی کے امیدوار 278 حلقوں سے انتخابی میدان میں ہیں ۔ راج ٹھاکرے کی مہاراشٹرا نو نرمان سینا نے 219 حلقوں سے مقابلہ کیا ہے ۔ ساری ریاست میں ایک ہی دن میں ووٹ ڈالے جائیں گے اور حکام کی جانب سے یہاں بڑے پیمانے پر سکیوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ تقریبا دو لاکھ پولیس اہلکاروں کو انتخابی ڈیوٹی پر متعین کیا گیا ہے اور انتخابات کو پرسکون و پرامن بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے گئے ہیں۔

حکام نے حالات کو دیکھتے ہوئے ہر پولنگ بوتھ پر سخت ترین انتظامات کئے ہیں۔ انتخابات میں جن اہم امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ ہوگا ان میں سابق چیف منسٹر پرتھوی راج چوہان ‘ سابق ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار ‘ سابق وزرا آر آر پاٹل و چھگن بوجبل ‘ دیویندر فڈنویس ‘ ایکناتھ کھڈسے ‘ ونود تاوڑے اور دوسرے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ہریانہ میں بھی سہ رخی مقابلہ میں کل ووٹ ڈالے جائیں گے جہاں 1.63 کروڑ رائے دہندے 1351 امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کرینگے ۔ یہاں بھی نریندر مودی نے زبردست انتخابی مہم چلائی تھی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے کافی وقت دیا ہے ۔ یہاں کانگریس ۔ بی جے پی اور انڈین نیشنل لوک دل کے مابین سہ رخی مقابلہ ہے ۔ یہاں اہم امیدواروں میں سابق وزیر اعلی بھوپیندر سنگھ ہوڈا ‘ رندیپ سرجیوالا ‘ سابق چیف منسٹر اوم پرکاش چوٹالہ کے فرزند ابھئے چوٹالہ ‘ بہو نیتا اور ان کے پوتے ڈکشیت بھی انتخابی میدان میں شامل ہیں۔ یہاں تین سیاسی خاندانوں بھجن لال ‘ بنسی لال اور دیوی لال کے ارکان خاندان بھی انتخابی میدان میں ہیں ۔