ممبئی ۔ 24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بڑے گوشت پر امتناع عائد ہونے سے قریش برادری کے تاجروں کا روزگار خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ وہ غیرملکی نژاد جرسی گایوں کے ذبیجہ کی اجازت طلب کررہے ہیں کیونکہ گائیں ہندوؤں کیلئے مقدس ہیں۔ کئی ریاستوں جیسے مہاراشٹرا میں حال ہی میں نئے قوانین کے تحت ان کے ذبیحہ پر امتناع عائد کردیا گیا ہے اور مویشیوں کے ذبیحہ کے سلسلہ میں سخت کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ کل ہند ملی کونسل نے جو مسلمانوں کی ایک تنظیم ہے، کہا کہ وہ بڑے گوشت پر امتناع کی خواہش کی کرتی ہے لیکن حکومت سے متبادل تلاش کرنے کی خواہش بھی کرتی ہے۔ انہیں امید ہیکہ جرسی گائیں جو عام طور پر ڈیری فارم میں ہوتی ہیں اور جزیرہ جرسی سے درآمد کی جاتی ہیں، متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ جنرل سکریٹری کونسل شاخ مہاراشٹرا ایم اے خالد نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں جرسی گایوں کے ذبیحہ کی اجازت دی جائے جو غیرملکی مویشی ہیں اور ان سے کسی قسم کے مذہبی جذبات وابستہ نہیں ہیں۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا بڑے گوشت کا برآمد کرنے والا ملک ہے اور صارفین کی تعداد کے اعتبار سے یہ دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ مسلم تاجر تازہ ترین تحدیدات کے خلاف احتجاج کرچکے ہیں لیکن انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ مہاراشٹرا ہندوستان کے سب سے بڑے مسلخ کا ملک بھی ہے جو دیونار میں واقع ہے۔
ریاست میں ماہ فبروری میں گایوں کے ذبیحہ پر عائد امتناع کو بیلوں تک بھی توسیع دے دی گئی ہے۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس نے جرسی گایوں کے ذبیحہ کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس امتناع میں کوئی استثنیٰ شامل نہیں ہے۔ دیونار کے مسلخ میں ذبح ہونے والے جانوروں کی تعداد نصف ہوچکی ہے۔ 200 تا 250 بھینسیں ذبح کی جارہی ہیں۔ کئی ملازمین بیروزگار ہوگئے ہیں۔ دیویندر فرنویس کا کہنا ہیکہ ان کی حکومت بدترین متاثرہ قریشی برادری کی بازآباد کاری پر غور کررہی ہے۔ تاہم انہوں نے تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا۔ دریں اثناء بعض ہندو گروپس جو مویشیوں کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرم ہیں، جو بڑے گوشت پر امتناع کی وجہ سے بے سہارا ہوگئے ہیں، کل ہند سکریٹری وشوا ہندو پریشد وینکٹیش ابدیو نے کہا کہ وہ گائے کی نسل کا تحفظ کریں گے۔ گاؤشالاؤں کی تعداد میں پوری ریاست میں اضافہ کرکے اسے سالانہ 5 ہزار کے اضافہ سے مربوط کیا جائے گا۔ ہر گائے اپنی نسل کا لحاظ کئے بغیر مقدس حیثیت رکھتی ہے۔