مہاراشٹرا اور ہریانہ میں بی جے پی کی حکومت ، ایگزٹ پول

نئی دہلی ۔ 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اور ہریانہ اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر رہی ہے۔ ایگزٹ پول میں بتایا گیا ہیکہ دونوں ریاستوں میں بی جے پی کو حکومت بنانے کا موقع ملے گا۔ کانگریس اور این سی پی جو مہاراشٹرا کے حکمراں پارٹیاں ہیں، 15 سال کی دوستی کو انتخابات سے عین قبل توڑ دیا تھا۔ ان دونوں پارٹیوں کو شدید دھکا پہنچا ہے جبکہ شیوسینا دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر رہی ہے۔ ٹوڈیز چانکیا کی جانب سے کئے گئے ایگزٹ پول میں تاہم مہاراشٹرا اور ہریانہ دونوں ریاستوں میں بی جے پی کو واضح اکثریت دی گئی ہے۔ مہاراشٹرا جہاں وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابی مہم چلاتے ہوئے 27 انتخابی جلسوں سے خطاب کیا تھا۔ پارٹی کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ مہاراشٹرا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بی جے پی تنہا حکومت بنائے گی۔ سی ووٹر ایگزٹ پول کے ٹائمس ناو اور زی نیوز چینلس پر پیش کردہ قیاس آرائی کے مطابق بی جے پی کو مہاراشٹرا کی 288 رکنی اسمبلی میں 129 نشستیں مل رہی ہیں۔ اس کی سابق حلیف پارٹی شیوسینا کو 56 نشستیں ملیں گی جبکہ کانگریس کے حق میں 43، این سی پی 36، مہاراشٹرا نونرمان سینا (ایم این ایس) کو 12 نشستیں مل رہی ہیں۔ دیگر کے حق میں 12 نشستیں ہیں۔ واضح اکثریت کیلئے بی جے پی کو 145 نشستیں ملنی چاہئیں۔ سبکدوش اسمبلی میں بی جے پی کے 47 ارکان تھے جبکہ شیوسینا کی 45 نشستیں تھیں۔ کانگریس کے 82، این سی پی کے 62 ارکان تھے۔ ایم این ایس کو 12 ارکان کی اکثریت حاصل تھی۔ اے سی ملسن برائے اے بی پی چینل کی ایگزٹ پول کے مطابق مہاراشٹرا میں بی جے پی کو 127 نشستیں، شیوسینا کو 77، کانگریس 40، این سی پی 34، ایم این ایس 5۔ انڈیا ٹی وی پر پیش کردہ ایگزٹ پول میں بی جے پی کو 124 تا 134 نشستیں مل رہی ہیں۔ شیوسینا کو 51 ۔ 61، کانگریس 38۔ 48، این سی پی 31۔ 41 اور ایم این ایس و دیگر کو 9۔ 15 نشستیں ملیں گی۔ ٹوڈیس چانکیا ایگزٹ پول کو نیوز 24 چینل پر ٹیلی کاسٹ کیا گیا ہے

جس میں بی جے پی کو 151 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت بتائی گئی ہے جبکہ شیوسینا کو 71 نشستیں دی گئی ہیں۔ کانگریس 27 اور این سی پی 28 پر کامیاب ہورہی ہے۔ ایم این ایس 11 نشستیں حاصل کریں گی۔ ہریانہ میں بی جے پی کیلئے واضح اکثریت کا اشارہ دیا گیا ہے۔ ایگزٹ پول میں بتایا گیا ہیکہ 90 نشستوں والی اسمبلی میں بی جے پی کو 52 نشستیں مل رہی ہیں۔ انڈین نیشنل لوکل کو 23 نشستوں کے ساتھ دوسرا مقام ملے گا۔ کانگریس 10 اور دیگر کو 5 نشستیں ملیں گی۔ ہریانہ کی سبکدوش اسمبلی میں کانگریس کی 40 نشستیں تھیں، بی جے پی کے صرف 4 ارکان تھے۔ انڈین نیشنل لوک دل 31، ایچ جے سی 6، دیگر 9 تھے۔ سی ووٹر کے پیش کردہ ایگزٹ پول کے مطابق ہریانہ میں بی جے پی کو 37 نشستیں ملیں گی، انڈین نیشنل لوک دل کو 28، کانگریس 15، ہریانہ جن ہت کانگریس کو 6 اور دیگر 4 نشستیں ملیں گی۔ اے سی نیلسن نے بی جے پی کو 46، کانگریس کو 10، انڈین نیشنل لوک دل کو 29، ایچ جے سی 2 اور دیگر 3 نشستیں ملنے کی پیش قیاسی کی ہے۔ اگر یہ پیش قیاسی درست ہوتی ہے تو ہریانہ میں بھی پہلی مرتبہ بی جے پی حکومت تشکیل دے گی۔ ہریانہ میں بھی مودی نے زبردست مہم چلائی تھی۔ 19 اکٹوبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ قبل ازیں مہاراشٹرا اور ہریانہ میں آج پرامن رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ ہریانہ میں رائے دہی کا وقت ختم ہونے تک 73 فیصد عوام نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا اور یہ ایک ریکارڈ ہے جبکہ مہاراشٹرا میں55 فیصد سے زائد رائے دہندوں نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔

1967ء میں ہریانہ میں سب سے زیادہ 72.65 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اسی طرح 1968ء میں 57.26 فیصد اقل ترین رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ 2009ء انتخابات میں 72.37 فیصد عوام نے رائے دہی میں حصہ لیا تھا۔ آج دونوں ریاستوں میں جیسے ہی رائے دہی کا آغاز ہوا پولنگ بوتھ پر عوام کی طویل قطاریں دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے۔ ناگپور سٹی اور وردھا ڈسٹرکٹ (ودربھا) کے علاوہ ممبئی میں سیوری کے مقام پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی اطلاعات ملی۔ ناسک بوتھ پر کئی رائے دہندوں نے یہ شکایت کی کہ انتخابی فہرست میں ان کے نام درج نہیں تھے۔ ہریانہ میں پیش آئے پرتشدد واقعات میں 32 افراد بشمول 10 ملازمین پولیس زخمی ہوگئے۔ یہاں کانگریس، بی جے پی اور آئی این ایل ڈی کے مابین مقابلہ ہے۔ ضلع حصار کے بروالا میں دو حریف جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس میں جھڑپ ہوگئی اور ہجوم نے 7 موٹر سیکلوں کو نذرآتش کردیا۔ اس کے علاوہ 10 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ دو حریف جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس میں بحث چھڑ گئی، جس نے تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ سرسا میں دو افراد فائرنگ میں زخمی ہوگئے۔ دو گروپس کے حامیوں کے مابین جھڑپ ہوگئی اور بعض افراد نے فائرنگ کردی۔ ایک اور واقعہ میں ایچ ایل پی اور آئی این ایل ڈی حامیوں کے مابین جھڑپ میں کار کو نقصان پہنچا اور اس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ انتہائی سخت سیکوریٹی انتظامات میں ہریانہ کے 90 اسمبلی حلقوں میں آج صبح 7 بجے رائے دہی شروع ہوئی اور یہ سلسلہ 6 بجے تک جاری رہا۔ عوام انتخابی مقابلہ میں شریک 1,351 امیدواروں کا فیصلہ کریں گے۔ بی جے پی یہاں پہلی مرتبہ تنہا مقابلہ کررہی ہے۔ مہاراشٹرا میں سابق چیف منسٹر پرتھوی راج چوہان کے علاوہ سابق ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار و سابق مرکزی وزیرداخلہ سشیل کمار شنڈے، این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے اور ان کی ماں پرتیبھا پوار نے پولنگ بوتھ پہنچ کر حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ این سی پی سربراہ شردپوار نے ممبئی میں ووٹ دیا جبکہ شیوسینا سربراہ اودھو ٹھاکرے نے اہلیہ اور بیٹے ادتیہ کے ہمراہ پہنچ کر حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ آج صبح جلد پولنگ بوتھ پہنچ کر ووٹ ڈالنے والی بالی ووڈ شخصیتوں میں سوپر اسٹار شاہ رخ خان ، ریکھا، جیہ بچن، ابھیشیک بچن، ہیمامالنی، ایشادیول، انوپم کھیر، سلمان خان اور سونالی بیندرے شامل ہیں۔ کرکٹر سچن تنڈولکر نے بھی حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ مہاراشٹرا میں 288 اسمبلی نشستوں پر 4,119 امیدوار انتخابی مقابلہ کررہے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی 19 اکٹوبر کو ہوگی۔