مہاتما گاندھی قومی ضمانت روزگار اسکیم میں تلنگانہ کا احاطہ کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد۔ 26 ۔ نومبر (سیاست نیوز) ریاستی اسمبلی نے آج متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مہاتما گاندھی قومی ضمانت روزگار اسکیم کے تحت تلنگانہ کے تمام دیہی علاقوں کا احاطہ کیا جائے ۔ وزیر پنچایت راج کے ٹی راما راؤ نے آج اس سلسلہ میں قرارداد پیش کی جس کی تمام جماعتوں نے تائید کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت مہاتما گاندھی قومی دیہی ضمانت روزگار اسکیم میں تبدیلی لاتے ہوئے اسے ملک کے 2500 پسماندہ علاقوں تک محدود کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس کے تحت تلنگانہ کے صرف 78 منڈلوں کا احاطہ کیا جائے گا ۔ تلنگانہ اسمبلی مرکزی حکومت کی اس تجویز پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس اسکیم کا مقصد دیہی علاقوں میں خواتین اور مختلف شعبوں میں مہارت نہ رکھنے والے افراد کو روزگار فراہم کرنا ہے۔ جن افراد کو روزگار میسر نہیں، اس اسکیم کے ذریعہ روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ ریاست چونکہ پسماندہ ریاست ہے لہذا یہاں روزگار کی عدم فراہمی سنگین مسئلہ ہے۔ لہذا حکومت کو چاہئے کہ تلنگانہ کے تمام پسماندہ منڈلوں کا احاطہ کرے۔ وزیر پنچایت راج نے کہا کہ حکومت کی نئی تجویز سے دلتوں ، خواتین اور دیگر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہوں گے جس کا اثر تلنگانہ کی ترقی پر پڑے گا۔ قرارداد میں مرکز سے درخواست کی گئی کہ وہ مہاتما گاندھی قومی ، دیہی ضمانت روزگار اسکیم پر تلنگانہ کے تمام منڈلوں میں عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ کانگریس ، تلگو دیشم ، بی جے پی ، سی پی آئی ، سی پی ایم اور وائی ایس آر سی پی نے اس قرارداد کی تائید کی۔