حرم شریف ۔ 7 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اقطاع عالم سے لاکھوں عازمین عمرہ مکہ معظمہ پہونچ رہے ہیں ۔ سعودی عرب میں اس سال مہلوک وائرس مئیرس سے 284 اموات کے باوجود لاکھوں فرزندان توحید کا عزم عمرہ اور جذبہ عبادت و سعادت میں دوگنا اضافہ ہوا ہے ۔ حرم شریف میں عبادتوں میں مصروف معتمرین کی کثیر تعداد ماہ شعبان کی سعادتیں اور برکتیں حاصل کرنے پورے خشوع و خضوع کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ عمرہ کی سعادت کے بعد ذکر و اذکار کا لطف دو بالا کرتے ہوئے لاکھوں فرزندان توحید نے وائرس مئیرس کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی ۔ 2003 میں یہ وائرس ایشیاء میں نمودار ہوا تھا جس سے 8273 افراد متاثر رہے ان میں سے 9 فیصد افراد فوت ہوئے تھے ۔ وائرس مئیرس کا سب سے پہلے سعودی عرب میں اپریل 2012 میں پتہ چلایا گیا ۔ اس کے بعد سے سعودی عرب اس وائرس سے شدید طور پر متاثر رہا ہے لیکن موت کی پرواہ کئے بغیر اقطاع عالم کے مسلمانوں کی کثیر تعداد مکہ معظمہ پہونچ رہی ہے ۔
عمرہ کی ادائیگی اور زیارت نبویؐ کی سعادت حاصل کرتے ہوئے خوشی و راحت محسوس کررہے ہیں ۔ ملایشیا سے آنے والے 45 سالہ عبداللہ نے کہا کہ ہمارے ملک میں حکام نے ہمیں مطلع کیا تھا کہ سعودی عرب میں وائرس مئیرس سے اموات ہورہی ہیں اور وہ سفر سے احتیاط کریں لیکن ہم کو اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکت پر کامل بھروسہ ہے اس لیے ہم اس کے گھر کی زیارت کرنے اور عبادتوں کی سعادت حاصل کرنے کے لیے اپنے وطن کو ترک کر کے اس سرزمین مقدس پر سجدہ ریز ہوئے ہیں ۔ حفاظتی ماسک پہن کر عبداللہ نے کہا کہ ہم کو مکہ معظمہ حرم شریف کے باب الداخلوں پر احتیاطی ٹیکہ بھی دئیے گئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ہی ہمارا حافظ و ناصر ہے تو ڈر کس بات کا ہے ۔ اللہ اپنے مہمانوں کی حفاظت کرے گا ۔ ماہ شعبان کے دوران اور ماہ جون کے اواخر میں رمضان المبارک کے لیے مزید عازمین عمرہ کی آمد متوقع ہے ۔ اس سال اکتوبر میں ہونے والے حج کے لیے بھی اقطاع عالم سے لاکھوں مسلمانوں کی آمد ہوگی ۔ اس لیے مکہ معظمہ میں مقامی حکام عازمین عمرہ میں ورقئیے اور بروچرس تقسیم کررہے ہیں ، جس میں صاف صفائی اور حفظان صحت کے لیے دیگر مشورے تحریر ہیں ۔
تیونس سے آنے والی ایک خاتون صفیہ بن محمد نے کہا کہ وائرس مئیرس ہمارے جذبہ ایمان کو متزلزل نہیں کرسکتا ۔ میں اس وائرس سے خوف زدہ نہیں ہوں ۔۔