حیدرآباد ۔ 15 فبروری ۔ دنیا کی خوبصورت وسیع و عریض مساجد میں ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی تاریخی مکہ مسجد کا شمار ہوتا ہے۔ 23696 مربع گز اراضی پر محیط عظیم الشان مسجد سارے ہندوستان میں حیدرآباد کی شان اس کی آن اور وقار و عظمت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ پانچویں قطب شاہی حکمراں محمد قلی قطب شاہ نے بہ نفس نفیس اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ 1618-1692 ، 75 سال کے عرصہ میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ دلچسپی کی بات یہ ہیکہ مسجد کی تعمیر قلی قطب شاہ نے شروع کروائی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس تاریخی مسجد کی اراضی پر بھی قبضے کئے گئے ہیں اور ان قبضوں کیلئے کوئی غیر ذمہ دار نہیں بلکہ خود مسلمان ہیں۔ مکہ مسجد کے نقشہ کا بغور جائزہ لیا جائے تو مسجد کے مختلف حصوں، دروازوں، حمام، وضو خانوں، خانقاہ، حوض اور کمانوں کے علاوہ شاہی غسل خانہ کی نشاندہی کی گئی۔ چنانچہ مسجد کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ پر مکہ مسجد کے مدرسہ سے متصل ایک کونے میں غسل خانہ موجود ہے لیکن بند پڑا ہے۔ تقریباً 150 مربع گز اراضی پر محیط اس غسل خانہ کے بیچوں بیچ ایک سنگی پلیٹ فارم ہے جس پر میت کو رکھا جاتا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہیکہ اس غسل خانہ کو آخری مرتبہ نظام ہشتم نواب میر محبوب علی خاں صدیقی کی میت کو غسل دینے کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔ ان کا 45 سال کی عمر میں 29 اگست 1911 کو انتقال ہوا تھا۔
نواب میر محبوب علی خاں صدیقی کی پیدائش سال 1866 ماہ اگست (17 اگست) کو ہوئی تھی اور ماہ اگست میں ہی انہوں نے اس دارفانی سے کوچ فرمایا۔ ذرائع کا کہنا ہیکہ مکہ مسجد میں جو پانچ بادشاہیں مدفن ہیں انہیں اسی غسل خانہ میں غسل دیا گیا تھا۔ واضح رہیکہ مکہ مسجد میں 5 بادشاہوں نواب نظام علی خان بہادر، نواب سکندر جاہ بہادر، نواب ناصرالدولہ بہادر، نواب افضل الدولہ بہادر اور نواب میر محبوب علی خاں صدیقی بہادر کی مزارات کے بشمول 14 مزارات ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ اس غسل خانہ کا اندرونی دروازہ تو موجود ہے لیکن ماضی میں اس کی چوڑائی 12 فٹ ہوا کرتی تھی۔ تاہم اب 4 فیٹ چوڑائی کا ایک آہنی دروازہ لگایا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہیکہ پنچ محلہ کی جانب بھی اس غسل خانہ کا 12 فٹ چوڑائی والا چوبی دروازہ اب وہاں آر سی سی مکان تعمیر کرلیا گیا ہے۔ نواب میر محبوب علی خاں کی مزار پر تقریباً 55 برسوں سے متعین فیض محمد خاں نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق محبوب علی خاں بہادر کو اسی غسل خانہ میں غسل دیا گیا۔ نقشہ میں مکہ مسجد کے 5 راستے بتائے گئے ہیں۔
تاہم ان میں سے اب صرف تین راستے باقی ہیں۔ دو راستے غائب ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان راستوں کو مکانات میں ملا لیا گیا ہے۔ یہ تاریخی مسجد ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت ہے۔ محکمہ اپنے فرائض کو بخوبی انجام دیتے ہوئے تاریخی مکہ مسجد کی اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ محکمہ اقلیتی بہبود اگر سنجیدہ اور دیانتدارانہ انداز میں تحقیقات کرے تو اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ شاہی غسل خانہ کے اس راستے پر کسی نے قبضہ کیا جو پنچ محلہ کی جانب کھلتا ہے؟ آخر اندرونی حصہ محفوظ اور بیرونی حصہ غیرمحفوظ کیوں ہے؟ تحقیقات پر یہ بھی معلوم ہوگا کہ مکہ مسجد کے تحت جو جائیدادیں وقف کی گئیں ہیں وہ کہاں کہاں اور کس کے قبضے میں ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف کو چاہئے کہ محکمہ آرکائیوز کے نقشہ کے مطابق تحقیقات کرے۔ بہرحال مسجد کی اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے چند مفادات حاصلہ اپنی دنیا و آخرت دونوں تباہ کررہے ہیں ۔ abuaimalazad@gmail.com