اندرون سال 40 لاکھ سے تعمیر بے کار ثابت ، محکمہ آبرسانی کی ناقص کارکردگی کا شاخسانہ
حیدرآباد۔ 17؍نومبر (سیاست نیوز)۔ سرکاری کام کس حد تک پائیدار ہوتے ہیں، اس کا اندازہ تاریخی مکہ مسجد میں تعمیر کردہ سمپ کی حالت سے لگایا جاسکتا ہے۔ مکہ مسجد میں سمپ کی تعمیر کو ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا اور سمپ میں بڑا شگاف پڑچکا ہے جب کہ اس تاریخی مسجد کی عمارت کی تعمیر کو سینکڑوں برس گزر چکے ہیں، لیکن اس پر کسی قسم کی کوئی دراڑ یا لکیر کی شکایت نہیں دیکھی گئی ہے، لیکن عصری و ٹکنالوجی کے اس دور میں دو سال طویل مدت و جدوجہد کے ساتھ تعمیر کئے گئے سمپ میں اندرون چھ ماہ دراڑ پڑگئی جس سے پانی رسنے لگا تھا۔ ایک کروڑ 40 لاکھ روپئے کے صرفہ سے تعمیر کیا گیا ایک لاکھ گیلن پانی کا سمپ مکہ مسجد کی بنیادوں کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ سمپ میں پڑنے والی شگاف سے جو پانی نکلے گا، وہ اطراف و اکناف کی زمین کو بھی نم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ آب رسانی کی زیر نگرانی تعمیر کئے گئے اس سمپ میں شگاف کے متعلق سمپ تعمیر کرنے والے کنٹراکٹر کو جب واقف کروایا گیا تو کنٹراکٹر نے فوری طور پر سمپ میں آئے شگاف کو ریت اور سیمنٹ کے استعمال کے ذریعہ بند کردیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کام عارضی طور پر ہوا ہے اور سمپ کی حالت کو مستقل طور پر بہتر نہ بنائے جانے کی صورت میں یہ کافی نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ سمپ کی تعمیر کے سلسلہ میں کئی مسائل و رکاوٹیں پیدا ہوئی تھیں اور کئی ماہ تک سمپ کی تعمیر کا کام تعطل کا شکار رہا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ روپئے ادا کرتے ہوئے محکمہ آب رسانی کی نگرانی میں یہ سمپ تعمیر کیا گیا ہے جس میں دراڑ کی شکایت منظر عام پر آئی ہے۔ عہدیداروں کے بموجب مکہ مسجد کے صحن میں تعمیر کئے گئے سمپ کے مغربی حصہ میں دراڑ کی اطلاع جب کنٹراکٹر کو دی گئی تو کنٹراکٹر نے اس مسئلہ کے حل کے لئے اسے فوری طور پر بند تو کردیا ہے، لیکن یہ مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوا ہے بلکہ سمپ میں دراڑ یا شگاف کی صورت میں حالات ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لئے محکمہ عمارات و شوارع کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور محکمہ آب رسانی کے انجینئرس کے پیانل کو اس سمپ کا مشاہدہ کرتے ہوئے رپورٹ تیار کرنی چاہئے تاکہ تاریخی عمارت کو کسی بھی طرح کے نقصان سے بچایا جاسکے۔ سمپ کی دیوار میں آئے شگاف سے اس طرح کے نقصانات کا خدشہ ہے، اگر کسی صورت میں سمپ کے نچلے حصہ میں شگاف یا دراڑ کی صورت میں فوری طور پر اس کا علم بھی ہونا دشوار ہوسکتا ہے۔