مولانا جمال الدین دکھنی کے فرزند کا دعویٰ ، ہائی کورٹ میں رٹ داخل
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جون : ( ) اب جب کہ ماہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے سارے شہر میں ماہ مقدس کے استقبال کی تیاریاں نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہیں ۔ تاریخی مکہ مسجد میں بھی متعدد تعمیری کام جاری ہیں۔ ان میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی شامل ہے ۔ اس پلانٹ کو برقی سربراہ کرنے 260kv کا ایک ٹرانسفارمر نصب کیا جارہا ہے ۔ مکہ مسجد میں تعمیری کام اچھی بات ہے اور مصلیوں کی سہولت کیلئے ضروری بھی لیکن کسی کی خانگی اراضی پر زبردستی برقی ٹرانسفارمر قائم کرنا غلط ہے ۔ مکہ مسجد کے جنوب میں پنچ محلہ کی جانب ایک ملگی میں کاروبار کرنے والے پولیو سے متاثرہ محمد جمیل الدین دکھنی ولد مولانا محمد جمال الدین دکھنی نے دفتر سیاست پر پہنچ کر بتایاکہ محکمہ برقی ان کی 44 گز کھلی اراضی پر ٹرانسفارمر نصب کررہا ہے جو غیر مجاز ہے ۔ 1974 میں ان کے والد مولانا جمال الدین دکھنی نے 119.17 مربع گز اراضی فرید احمد ولد غلام احمد سے خریدی تھی اور اس کی باضابطہ رجسٹرڈ Sale Deed تیار کروائی گئی جس کا نمبر 673/1974 ہے اور تب سے یہ اراضی محمد جمیل الدین دکھنی کے قبضہ و تصرف میں ہے تاہم اس 119.17 گز اراضی میں سے 44 مربع گز کھلی اراضی پر اب ان کاکہنا ہے کہ پہلے تو چند مفاد پرست عناصر کی نظریں تھیں ۔ انہیں ناکامی ہوئی تو الیکٹریسٹی عملہ نے ٹرانسفارمر نصب کرنے کا آغاز کردیا ۔ وہاں سمنٹ بیڈ تعمیر کردیا گیا ہے ۔ انکا کہنا ہیکہ متصل سرکاری اراضی ہے اس پر ٹرانسفارمر نصب کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے محکمہ کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ درخواست 16503/2014 داخل کی ہے ۔ چونکہ مسجد کیلئے برقی ٹرانسفارمر نصب کیا جارہا ہے اس لیے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو ۔ دوسری طرف محمد جمیل الدین دکھنی جذبہ ایمانی کا مظاہرہ کرکے مسجد کیلئے اراضی دیتے ہیں تو یہ انکے اور انکے مرحوم والد کیلئے اجر و ثواب کا باعث بن سکتے ہیں ۔