مکہ مسجد و وٹولی کے ملزمین کی برأت

مجرم کون ہیں ؟ حکومت کے ردعمل کا انتظار : مشتاق ملک
حیدرآباد ۔ 20 ۔ اپریل : ( راست ) : ملک کی تصویر بدل رہی مجرم آزاد ہو بھی رہے ہیں گھوم بھی رہے ہیں مکہ مسجد اور وٹولی کے عدالتی فیصلوں پر ریاستی ٹی آر ایس حکومت کے ردعمل کا انتظار ہے ۔ اگر مجرم یہ نہیں تو پھر کون مجرم ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں مکہ مسجد بھی ہے وٹولی بھی ہے ۔ بھاسکر راؤ کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر ٹی آر ایس حکومت 4 سالوں میں کیوں نہیں لائی ۔ ان خیالات کا اظہار جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان نے نماز جمعہ سے قبل سکندرآباد جامع مسجد ماریڈ پلی میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جناب محمد مشتاق ملک نے مطالبہ کیا کہ از سر نو تحقیقات کے لیے ریاستی حکومت عدالت سے رجوع ہو ۔ اور مجرمین NIA کی جانب سے شواہد پیش نہ کرنے کی بنیاد پر چھوٹ گئے مقدمہ کی کمزوریوں کے لیے ریاستی حکومت مرکز سے بات کرے ۔ حیرت اس بات کی ہے کہ ریاستی حکومت نے اس حساس کیس کے تعلق سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔ کیس NIA دیکھ رہی ہے ۔ بول کر ریاستی حکومت ذمہ داری سے فرار نہیں ہوسکتی ۔ ہندو دہشت گرد تنظیموں نے یہ مذموم حرکت کی ہے ۔ سی بی آئی کی رپورٹ اور اعلیٰ پولیس عہدیداروں کی پریس کانفرنسوں میں یہ بات کہی گئی ۔ جناب محمد مشتاق ملک نے کہا کہ 9 افراد کی شہادت ، 58 کے زخمی ہونے اور پولیس فائرنگ میں ہوئی شہادتوں کو ریاست کی عوام بالخصوص مسلمان بھول نہیں سکتے ۔ وٹولی میں اس وقت کے ایم ایل اے جو ٹی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہوئے تھے 5 معصوم مسلمانوں کو زندہ جلادینے میں ان کے ہاتھ ہونے کی باتیں آئی تھی ۔ جناب محمد مشتاق ملک نے کہا کہ اگر بی جے پی ، کانگریس کے خلاف محاذ ہی بنانا ہے تو انصاف بھی کرنا ہوگا ۔ اور مسلمانوں کو انصاف دلانا ہوگا ۔ ریاستی حکومت اس مسئلہ پر اپنی رائے تو رکھے کہ وہ اپیل کے لیے این آئی اے کو کہے گی ۔ ملک بدل رہا ہے مجرم آزاد ہورہے ہیں ۔ ابھی سہراب الدین انکاونٹر کیس کے دوران جسٹس لوہیا کی موت کی بات بھی چل رہی ہے ۔ سادھوی پریگیہ ٹھاکر ، اسیما آنند ، کرنل پروہت کو بچانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا ۔ حالات و قرائین یہ بتلاتے ہیں کیوں کہ این آئی اے جج نے فیصلہ کے فوری بعد استعفیٰ دیدیا یہ خود ایک بڑا سوال اور جواب ہے ۔ بہر حال ریاستی حکومت ذمہ داری نبھائے ۔۔