مکہ مسجد بم دھماکہ مقدمہ کی از سر نو تحقیقات کا مطالبہ

گورنر اے پی و تلنگانہ ای ایس این ایل نرسمہن سے مسلم اکابرین و عمائدین کی نمائندگی
حیدرآباد۔19اپریل(سیاست نیوز) مکہ مسجد بم دھماکہ مقدمہ کے فیصلہ نے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا ہے اسی لئے اس مقدمہ کی ازسر نو تحقیقات کرواتے ہوئے مقدمہ چلائے جانے کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کی زیر قیادت مسلم اکابرین و عمائدین کے سرکردہ وفد نے گورنر آندھرا پردیش و تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کرتے ہوئے مکہ مسجد دھماکہ‘ وٹولی اوربھاسکر راؤ کمیشن رپورٹ معاملہ پر یادداشت حوالہ کرتے ہوئے ان سے خواہش کی کہ وہ ان امور میں مداخلت کرتے ہوئے انصاف رسانی کے عمل کو یقینی بنائیں۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی زیر قیادت گورنر سے ملاقات کرنے والے وفد میں مولانا سید شاہ قبول پاشاہ قادری شطاری‘ مولانا صفی احمد مدنی ‘ مولانا سید اولیاء حسینی مرتضی پاشاہ ‘ جناب محمد اظہر الدین‘ مولانا سید نثار حسین حیدرآقا‘مولانا محمد رحیم الدین انصاری‘ مولانا سید محمد احمد الحسینی ‘ جناب سید احمد پاشاہ قادری رکن اسمبلی چارمینار‘ جناب ضیاء الدین نیر‘جناب منیر الدین مختار کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ وفد نے گورنر سے ملاقات کے دوران جو یادداشت پیش کی اس میں استغاثہ کی ناکامیوں کی مکمل تفصیل پیش کرتے ہوئے سوامی اسیما نند کے اقبالی بیان اور اس سے انحراف کے علاوہ دیگر نقائص کی سمت نشاندہی کی گئی اور گجرات بیسٹ بیکری معاملہ میں کلیدی گواہ ظہیرہ شیخ کے انحراف پر اسے دی گئی سزاء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مکہ مسجد بم دھماکہ مقدمہ میں کئی گواہ منحرف ہوئے جس میں خود کلیدی ملزم نے اعتراف گناہ کرنے کے بعد انحراف کرتے ہوئے بیان تبدیل کیا ہے۔ وفد کے ذمہ داروں نے گورنر کو پیش کی گئی یادداشت میں اس بات کی خواہش کی کہ از سر نو تحقیقات کی نگرانی کیلئے اعلی سطحی کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے جو کہ ہائی کورٹ کی راست نگرانی میں قائم ہو ۔ اس کمیٹی میں دو انگریزی اخبارات کے صحافیوں اور تین دیگر زبان کے صحافیوں کو شامل کیا جائے تاکہ تحقیقات کی شفاف نگرانی کو ممکن بنایا جاسکے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے گورنر سے بات چیت کے دوران کہا کہ این آئی اے نے اس معاملہ کی تحقیقات میں کوئی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے بلکہ برائے نام تحقیقات کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دلسکھ نگر بم دھماکہ کی تحقیقات کے دوران این آئی اے کے اعلی عہدیدار عدالت میں مقدمہ کی پیروی کیلئے موجود ہوا کرتے تھے جس میں خاطیوں کو سزاء دی گئی جبکہ مکہ مسجد بم دھماکہ کے مقدمہ کے دوران کوئی اعلی عہدیدار پیروی کیلئے عدالت میں موجود نہیں رہا۔ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن کو پیش کی گئی یادداشت میں وفد نے خواہش کی کہ گورنر اپنے اختیار ات کا استعمال کا کرتے ہوئے اس معاملہ کی ازسر نو تحقیقات و مقدمہ چلانے کے عمل کو یقینی بنائیں اور تحقیقات کے دائرہ میں اسیمانند کے بیان سے انحراف‘ فیصلہ صادر کرنے کے بعد جج کے استعفی اور تحقیقات میں شامل دستاویزات کی گمشدگی کے واقعہ کو بھی شامل کیا جائے۔بیرسٹر اویسی نے گورنر سے نمائندگی کے دوران کہا کہ این آئی اے نے اس اہم ترین مقدمہ میں پیروی کیلئے غیر موزو ںاور نا تجربہ کار وکیل کا انتخاب کیا تھا اور اس معاملہ کو نظر میں رکھتے ہوئے بم دھماکہ کی ازسر نو تحقیقات و مقدمہ کی پیروی کیلئے فوجداری مقدمات میں ماہر اور قابل وکیل کے تقرر کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ مولانا سید شاہ قبول پاشاہ قادری شطاری نے گورنر تلنگانہ و آندھراپردیش سے نمائندگی کے دوران انہیں مسلمانوں کے جذبات و احساسات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں سے عدالتوں پر موجود اٹوٹ ایقان متزلزل ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے تحقیقاتی ایجنسیوں کی ناکامیوں کا سخت نوٹ لیا جانا چاہئے ۔ سرکردہ مسلم نمائندو ںکے وفد نے بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر سے ملاقات کی تفصیلات سے واقف کروایا ۔