صدرنشین اقلیتی کمیشن قمرالدین قانونی رائے حاصل کریں گے
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن نے مکہ مسجد بم دھماکہ اور عادل آباد کے وٹولی قتل عام کے سلسلہ میں عدالتوں کے فیصلے کا جائزہ لینے کی تیاری شروع کی ہے۔ اقلیتی کمیشن کو اختیارات حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مسئلہ پر حکومت کو سفارشات پیش کرسکتا ہے ۔ اقلیتوں سے ناانصافی کے معاملات میں کمیشن اپنے طور پر کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ صدرنشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن محمد قمرالدین نے کہا کہ مکہ مسجد بم دھماکہ کے سلسلہ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے تمام ملزمین کو بری کردیا ہے۔ اسی طرح عادل آباد کے وٹولی میں اکتوبر 2008 ء کو مسلم خاندان کے 6 افراد کو زندہ جلانے کے تمام ملزمین کو مقامی عدالت نے بری کردیا ۔ دونوں فیصلوں کا کمیشن جائزہ لے گا اور ماہرین قانون سے مشاورت کے بعد حکومت کو تجاویز پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فیصلوں کے بارے میں مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ماہرین قانون سے مشاورت کے بعد ضرورت پڑنے پر دوبارہ تحقیقات کی سفارش کی جائے گی تاکہ متاثرین کے ساتھ انصاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے سلسلہ میں بعض گوشوں سے تجاویز موصول ہورہی ہے۔ کمیشن اس کا جائزہ لے گا۔ واضح رہے کہ مکہ مسجد بم دھماکہ کے بعد اس وقت کے اقلیتی کمیشن نے بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کے سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کی تھی ۔ حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے بے قصور نوجوانوں کو نہ صرف معاوضہ ادا کیا بلکہ انہیں بہتر چال و چلن کا سرٹیفکٹ بھی دیا گیا تھا ۔ وٹولی واقعہ کے سلسلہ میں اس وقت کے صدرنشین عابد رسول خاں نے دورہ کرتے ہوئے حکومت کو ایس آئی ٹی کی تشکیل کی سفارش کی تھی ۔ اس وقت کی رپورٹ آج بھی کمیشن میں محفوظ ہے۔ تلنگانہ ریاست کے پہلے اقلیتی کمیشن نے ابھی تک مسلمانوں کے کسی اہم مسئلہ کا جائزہ نہیں لیا ہے۔ مسلم تنظیموں کی جانب سے اس سلسلہ میں صدرنشین محمد قمرالدین کی توجہ مبذول کرائی گئی کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کریں۔ حکومت نے کمیشن کیلئے واٹر ورکس کامپلکس خیریت آباد کی چوتھی منزل پر دفتر الاٹ کیا ہے ۔ صدرنشین کمیشن نے مسلم تنظیموں اور متاثرین سے خواہش کی ہے کہ وہ نمائندگی کیلئے ان سے رجوع ہوں۔