مُرسی‘ محمد بدیع اور دیگر کئی قائدین کو سزائے موت

قاہرہ۔16مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) مصر کی ایک عدالت نے معزول صدر محمد مُرسی ‘ ان کی تنظیم اخوان المسلمون کے سربراہ محمد بدیع اور دیگر 100سے زائد اسلام پسندوں کو 2011کی شورش کے دوران جیل توڑ کر فرار ہونے کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی ہے ۔ انتہائی سزاء پانے والوں میں مُرسی اور ان کے 130 با اعتماد رفقاء میں اخوان المسلمون کے سینئر قائدین محمد بدیع ‘ محمد سعد الحظائن ‘ عصام العریان ‘ محمد البلتاجی اور صنوت حجازی بھی شامل ہیں جن پر ایسے ہی الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا ۔ 63سالہ مُرسی کو پنجرہ نما آہنی کیبن میں بٹھاکر عدالت میں پیش کیا گیا تھا ‘ فوجداری عدالت نے مُرسی ‘ بدیع اور دیگر 140 اخوان قائدین کو سزائے موت کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر مُرسی نے مٹھی بند ہاتھ لہراتے ہوئے عدالتی فیصلے کی مخالفت کی ۔

اس فیصلے کے بعد مُرسی مصر کی تاریخ کے وہ پہلے صدر بن گئے ہیں جنہیں سزائے موت دی گئی ہے اور اس عدالت کے خلاف اپنی اپیل کے ناکام ہوجانے کی صورت میں بالائی عدالت 2جون کو تحت کی عدالت کے فیصلے کو توثیق کرسکتی ہے جس کی بنیاد پر انہیں پھانسی پر لٹکائے جانے کا امکان ہوسکتا ہے ۔دیگر کئی ملزمین کے خلاف ان کے غیاب میں مقدمہ چلایا گیا ‘ ان پر جیلوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچانے ‘ نذرآتش کرنے ‘ قتل ‘ اقدام قتل ‘ قید خانوں کو اسلحہ کے ڈپوز کوٹنے کے علاوہ جیل توڑ کر تمام قیدیوں کو فرار ہونے میں مدد کے الزامات عائد کئے تھے ۔ یہ واقعہ جنوری 2011ء کے انقلاب کے موقع پر پیش آیا تھا جب مصر کی تین بڑی جیلوں سے 20,000قیدی فرار ہوگئے تھے ۔ اس شورش کے نتیجہ میں مصر کے مرد آہن حسنی مبارک کو اقتدار سے بیدخل ہونا پڑا تھا ۔ عدالت نے اخوان المسلمون کے دیگر 16قائدین کو جن میں خیرات الشاطر کو جو اپنی تنظیم کے نائب رہبر اعلیٰ بھی ہیں سازش کے ایک علحدہ مقدمہ میں سزائے موت دی گئی ہے ۔ اس مقدمہ میں دیگر 35 افراد کے ساتھ مُرسی بھی ایک ملزم ہیں لیکن عدالت نے ان کے بارے میں کسی متعاقب تاریخ پر فیصلہ صادر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

ملک کے خلاف سازش کے مقدمہ میں ان اسلام پسندوں پر فلسطینی اسلامی گروپ حماس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے علاوہ ایران کے پاسداران انقلاب کے ساتھ ساز باز کے ساتھ مصر کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات عائد کئے گئے تھے ۔ ان مدعی علیھان پر دہشت گردی کیلئے فنڈس کی فراہمی کے علاوہ قومی سلامتی کے رازوں کا افشاء کرنے کے الزامات بھی عائد ہیں ۔ ان دونوں مقدمات کے فیصلے مفتی اعظم سے رجوع کردیئے گئے ہیں جو مصری قوانین کے مطابق تمام ملزمین کو دی گئی سزائے موت کے فیصلوں کا جائزہ لیں گے ۔ تاہم مفتیاعظم کے فیصلے کی پابندی لازمی نہیں ہوتی ۔ مرسی پر عدلیہ کیتوہین ‘ ملک کے خلاف جاسوسی ‘ قطر میں واقع الجزیرہ نیوز چینل کے ذریعہ قطری انٹلیجنس کو مصری سیکیورٹی سے متعلق اہم اور انتہائی رازدارانہ دستاویزات کی حوالگی جیسے سنگین الزامات کے تحت بھی مقدمات چلائے گئے تھے ۔ مُرسی کی معزولی کے چند ماہ بعد ہی اخوان المسلمون پر پابندی عائد کی گئی تھی اس اس اسلامی تنظیم کے سینکڑوں قائدین اور کارکنوں کے خلاف فوجداری مقدمات زیر دوران ہیں ۔