عوام پر مزید ایک بوجھ بڑھانے کی تیاری ، الیکٹرک گاڑیوں کو عام کرنے پر توجہ
حیدرآباد /11 جولائی ( سیاست نیوز ) حکومت کو قیمتوں میں اضافہ کا صرف بہانہ چاہئے ۔ یہ اپوزیشن اور سماجی تنظیموں کا نعرہ ہے ۔ لیکن حالیہ دنوں حکومت کی پالیسیاں اور مجوزہ منصوبوں سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ شہریوں پر مزید اضافہ بوجھ عائد کیا جائے گا ۔ کہا جاتا ہے کہ ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہی ، مہنگائی اور اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کا اصل سبب بنتا ہے ۔ کچھ اس طرح کا اقدام عمل میں لایا جانے والا ہے حکومت نے اب گاڑیوں کے ٹیکس میں اضافہ کا منصوبہ تیار کیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ الیکٹریک گاڑیوں کے چلن کو عام کرنے کیلئے اس طرح کا اقدام کیا جارہا ہے ۔ تاکہ ڈیزل اور پٹرول کی گاڑیوں کو بند کیا جاسکے اور ان کی فروخت میں کمی لائی جاسکے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ منصوبہ کا اصل مقصد مہنگائی نہیں بلکہ آلودگی پر قابو پانا ہے ۔ جس کے خطرناک اثرات راست انسانی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں ۔ الیکٹرک گاڑیوں کے چلن کو عام کرنے کی خاطر حکومت نے روایتی پٹرول اور ڈیزل کی گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ کا منصوبہ تیار کیا ہے اور مسئلہ پر غور کیا جارہا ہے ۔ مارکٹ کے ماہرین اور دانشوروں سے رائے طلب کرنے کے بعد امکان ہے کہ حکومت نے الیکٹرانک گاڑیوں کے چلن کو عام کرنے سبسیڈی اسکیم جاری کرنے پر بھی غور کر رہی ہے اور پہلے 10 لاکھ گاڑیوں کو سبسیڈی دی جائے گی ۔ تاہم وزارت فینانس کو حاصل مواد اور اسکیم کی عمل آوری کیلئے درکار اقدامات سے پس و پیش کا شکار ہے ۔ الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کیلئے شروع کردہ اسکیم اور فاسٹر اڈاپشن اینڈ مینوفیکچرنگ آف الیکٹریک وہیکل کے تحت بڑے سرمایہ داروں اور الیکٹرک گاڑیوں کو تیار کرنے والی کمپنیوں کو حووصلہ افزائی انہیں راحت فراہم کی جارہی ہے لیکن اس اسکیم کو سال 2022-23 تک جاری رکھنے کے تقاضہ پائے جاتے ہیں ۔ ڈپارٹمنٹ آف ہیوی انڈسٹری نے فیم کی عمل آوری کیلئے 9381 کروڑ کا مطالبہ کیا ہے ۔