مولانا ابوالکلام آزاد کے کارناموں سے نئی نسل کو واقف کروانے کی ضرورت

قومی سالمیت کمیٹی کا جلسہ یوم آزاد، ایس کے افضل الدین اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 نومبر (دکن نیوز) قومی سالمیت کمیٹی کے زیراہتمام ممتاز مجاہد آزادی و مفسر قرآن مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش تقریب تلگو یونیورسٹی آڈیٹوریم، باغ عامہ (نامپلی) میں منائی گئی۔ صدارت صدر کمیٹی ایس کے افضل الدین نے کی۔ اس موقع پر کمیٹی نے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے سماجی، صحافتی و تعلیمی خدمات کے اعتراف میں تہنیت پیش کی گئی۔ مسٹر آدتیہ ریڈی نیشنل کوآرڈینیٹر کانگریس کمیٹی نے مولانا آزاد کی تعلیمی، سماجی و سیاسی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ آج ہمیں اس بات کی ضرورت ہیکہ مولانا آزاد کی شخصیت کو نئی نسل تک روشناس کروانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھے۔ ڈاکٹر ایم اے انصاری جنرل سکریٹری کمیٹی کی قرأت کلام پاک و نعت شریف سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ ایس کے افضل الدین ترجمان کانگریس آئی و صدر کمیٹی نے مولانا ابوالکلام آزاد کی سماجی، سیاسی، مذہبی و علمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل اگر مولانا کے بتائے ہوئے طریقہ کار کو نہیں اپنائی تو وہ سیاسی یا مذہبی، علمی میدان میں ترقی کے جھنڈے گاڑ نہ سکے گی۔ اس لئے ضروری ہیکہ مولانا کی زندگی کا جہاں عمیق مطالعہ کیا جائے وہیں مولانا کے اصول و ضوابط کو اپنائیں۔ جناب خلیق الرحمن کانگریس قائد نے کہا کہ مولانا آزاد کو اس دنیا سے گئے کئی برس کا عرصہ ہوا لیکن آج بھی ان کی تعلیمات روز روش کی طرح عیاں ہے۔ ضرورت ہیکہ بلالحاظ مذہب و ملت آپ کے اس درس و نصیحتوں کو منتقل کیا جائے۔ سید شہداللہ حسینی نے کہا کہ مولانا آزاد سیکولرازم کے علمبردار تھے ۔ ڈاکٹر مختار احمد فردین نے کہا کہ ملک کی جدوجہد آزادی جہاں مولانا کا بہت بڑا حصہ رہا ہے وہیں انہوں نے قلم کے ذریعہ اسلام کے پیغام کو عام کرنے قرآن کی روح کو انسانیت میں منتقل کرنے کی سعی و جہد کی۔ جدوجہد آزادی میں انہوں نے گاندھی جی اور پنڈت جواہر لعل اور دوسرے برادران وطن کے ساتھ جو حصہ ادا کیا ہے وہ غیرمعمولی ہے۔ محمد اعجاز الزماں نائب صدر اقلیتی سیل نے کہا کہ مولانا کی پیدائش مکہ معظمہ میں ہوئی اور اردو زبان کے فروغ میں آپ کی بے مثال خدمات ہے۔ نواب بہبور علی خان نے کہا کہ مولانا نصب العین کا صرف دم بھرنے سے حاصل نہ ہوگا بلکہ مولانا نے جس طرح عملی میدان میں کام کیا ہے آج بھی من و عن اسی کی ضرورت ہے۔ محترمہ نکہت آراء شاہین نے کہا کہ مولانا آزادکی شخصیت اپنی ذات میں انسائیکلو پیڈیا سے کم نہیں اس لئے نوجوانوں کو ان کی شخصیت سے واقفیت ضروری ہے۔ عداللطیف ظفر نے مولانا کی زندگی کا تقابلی جائزہ لیا۔ ڈاکٹر ایم اے انصاری ارشد صدیقی، محبیب الدین، حشمت اللہ قادری، سید سعادت حسین، محمد امتیاز نے مولانا آزاد کی یوم پیدائش پر مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس روز عام تعطیل کا اعلان کریں۔ اس موقع پر ممتاز کامیڈین قادر شریف، اشوک کمار اور جمشید خان نے مزاحیہ خاکے پیش کیا۔