مرکزی وزارت نے تجدید نہیں کی،حکام کی لاپرواہی ،چانسلر کے تین اہم فیصلے برفدان کی نذر
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی تعلیم اور ریسرچ کے شعبہ میں نئے مواقع پیدا کرنے کے بجائے سرگرمیوں کے اعتبار سے سکڑتی جارہی ہے ۔ یونیورسٹی حکام کو نئے کورسس کے آغاز میں کوئی دلچسپی نہیں اور موجودہ کورسس کی برقراری میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ سیول سرویسز کی ٹریننگ کیلئے قائم کردہ کوچنگ اکیڈیمی کو جاریہ سال مرکزی حکومت سے اجازت حاصل نہیں ہوئی جس کے باعث اندیشہ ہے کہ اکیڈیمی بند ہوجائے گی ۔ وزارت فروغ انسانی وسائل اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد ایسے اداروں کی تجدید (رینیول) کرتا ہے لیکن اس مرتبہ یونیورسٹی کی غیر مطمئن کارکردگی کے نتیجہ میں رینیول نہیں کیا گیا جس کا اثر سیول سرویس کوچنگ پر پڑے گا جو نہ صرف اقلیتی طلبہ بلکہ دیگر پسماندہ طبقات کیلئے نقصان ہے۔ یونیورسٹی پر شمالی ہند کے غلبہ کے نتیجہ میں صورتحال دن بہ دن دگرگوں ہورہی ہے۔ وائس چانسلر نے اپنے حواریوں کو اہم عہدوں پر فائز کردیا اور انہیں یونیورسٹی کی ترقی اور کورسس بچانے سے کوئی دلچسپی نہیں جس کا تازہ ترین ثبوت سیول سرویس اکیڈیمی کی تجدید سے مرکز کا انکار ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 2009 ء میں قائم کردہ یہ اکیڈیمی گزشتہ سال سے سرگرم ہوچکی تھی۔ سچر کمیٹی سفارشات کی بنیاد پر اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کے طلبہ کیلئے سیول سرویس کوچنگ کے سلسلہ میں پانچ یونیورسٹیز میں اکیڈیمی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ علیگڑھ ، جامعہ ملیہ ، ہمدرد اور لکھنو کی امبیڈکر یونیورسٹی کے ساتھ اردو یونیورسٹی کے لئے سیول سرویس اکیڈیمی منظور کی گئی ۔ ہر سال اکیڈیمی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد تجدید کی جاتی ہے کہ فروغ انسانی وسائل اور یونیورسٹی برانچ کمیشن کی ٹیم ہر سال یونیورسٹی کا دورہ کرتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال مرکزی ٹیم اکیڈیمی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے جس کے باعث تجدید سے انکار کیا گیا۔ گزشتہ سال ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار عامر اللہ خاں کو اکیڈیمی کا ڈائرکٹر مقرر کیا گیا تھا اور سابق آئی پی ایس عہدیدار اے کے خاں کو اڈوائزری کمیٹی میں شامل کیا گیا ۔ گزشتہ سال 6000 درخواستوں میں 120 طلبہ کا انتخاب کیا گیا جن میں 60 اقلیتی طلبہ ہیں، انہیں اکیڈیمی میں رہائشی انتظام کے ساتھ سیول سرویسز کی کوچنگ فراہم کی جاتی ہے ۔ سیول سرویسز میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ کیلئے اردو یونیورسٹی اہم رول ادا کرسکتی تھی لیکن حکام کے رویہ سے ناراض ہوکر عامر اللہ خاں نے ڈائرکٹر کے عہدہ کو خیرباد کہہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ وائس چانسلر اور چانسلر کے درمیان تال میل کی کمی ہے اور کسی بھی مسئلہ پر چانسلر سے مشاورت نہیں کی جاتی۔ سیول سرویسز اکیڈیمی کی تجدید کے سلسلہ میں چانسلر کی خدمات حاصل نہیں کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر جنوری میں یونیورسٹی کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن وائس چانسلر نے مخالفت کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ وہ استقبال نہیں کریں گے۔ حکام کے اس رویہ کا وزارت فروغ انسانی وسائل پر منفی اثر پڑا۔ سیول سرویسز اکیڈیمی کے بند ہونے سے یونیورسٹی سے زیادہ طلبہ کا نقصان ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ظفر سریش والا نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مرکز سے 225 کروڑ روپئے کی گرانٹ منظور کرائی تھی ۔ انہوں نے یونیورسٹی میں کیمپس ریکروٹمنٹ کا آغاز کیا جس کے تحت مختلف بڑی کمپنیوں میں 120 طلبہ کا تقرر کیا گیا۔ انہوں نے 2015 ء میں یونیورسٹی کے 60 طلبہ کیلئے انڈسٹریل ٹور کا اہتمام کیا جس کے تحت ممبئی کی بڑی کمپنیوں کا دورہ کرایا گیا ۔ 60 طلبہ کا 6 دن قیام اور طعام کے اخراجات ظفر سریش والا نے اپنی جیب سے ادا کئے تھے۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو صنعتوں کے قیام کے بارے میں شعور بیدار کرنا تھا ۔ انہوں نے دینی مدارس کے طلبہ کو یونیورسٹی سے جوڑنے کیلئے برج کورس کا آغاز کیا لیکن افسوس کہ یہ تینوں پروگرام بھی بند ہوچکے ہیں۔ بڑی کمپنیاں کیمپس ریکروٹمنٹ کیلئے تیار ہیں لیکن ان سے نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت یونیورسٹی کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ، تاکہ آگے چل کر یہ محض ایک رسمی یونیورسٹی میں تبدیل ہوجائے ۔ سیول سرویس اکیڈیمی کی تجدید سے مرکز کا انکار دراصل حکام کی نااہلی کا ثبوت ہے۔ وائس چانسلر کے قریبی افراد اسے بی جے پی حکومت کی اردو دشمنی سے تعبیر کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ طفر سریش والا کی مساعی سے یونیورسٹی کے مختلف کورسس کو مسلمہ حیثیت حاصل ہوئی اور 225 کروڑ روپئے بھی مرکز نے منظور کئے ۔ اپنی ناکامی اور نااہلی کو چھپانے کیلئے وزارت فروغ انسانی مسائل پر الزام تراشی باعث حیرت ہے۔