مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں داخلہ دشوار کن ، نشستوں کی تکمیل بھی مشکل

پی جی میں داخلہ کیلئے نئے شرائط ، طلبہ کے مستقبل پر کاری ضرب ، کئی شعبہ جات میں نشستیں خالی
حیدرآباد ۔ 11 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کو یونیورسٹی کے شرائط سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اردو داں طبقہ کی خواہشات اور توقعات کو پورا کرنے کے مقصد سے قائم یونیورسٹی میں داخلہ دشوار کن عمل بن گیا ہے ۔ جس کے سبب نہ صرف خواہش مند طلبہ بلکہ نشستوں کی تکمیل بھی مشکل کا شکار ہوگئی ہے ۔ پوسٹ گریجویشن پروگراموں میں داخلہ کے نئے شرائط طلبہ کے مستقبل پر کاری ضرب ثابت ہورہے ہیں ۔ طلبہ کے لیے حد عمر مقرر کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے مشکلات پیدا کردی ہیں ۔ جن خواہش مند امیدواروں ( مرد ) کی عمر 28 سال اور خواتین کی عمر 31 سال سے زیادہ ہو انہیں داخلہ نہیں دیا جارہا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں 30 کے منجملہ صرف 10 نشستوں پر ہی داخلے یقینی ہوپائے ہیں ۔ سائنسی و طبی علوم کے لیے حد عمر کا تعین قابل فہم بات ہے لیکن آرٹس و دیگر سماجی علوم کے لیے حد عمر کا لزوم غیر مناسب ہے اور جب کہ 28 سال سے کم عمر کے طلبہ کی مناسب تعداد کا دستیاب ہونا مشکل ہے اور ان نشستوں کے لیے کوئی مسابقت کا اندیشہ بھی نہیں ہے ۔ چنانچہ داخلوں کے تمام مراحل انجام پانے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ حد عمر کے لزوم کے بعد پوسٹ گریجویشن پروگراموں جیسے ادب و لٹریچر ، لسانیات ، اور سماجی علوم صحافت و ترسیل عامہ و دیگر پروگراموں میں دستیاب نشستوں میں نصف سے بھی کم داخلے ہوئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایم اے ( ایم سی جے ) پروگرام میں جملہ 30 نشستیں ہیں جس میں صرف 10 طلباء نے داخلہ لیا ۔ باقی 20 نشستوں کو یوں ہی مخلوعہ رکھا گیا ہے ۔ دیگر پروگراموں میں ہوئے داخلوں کی بھی یہی صورتحال ہے ۔ نشستوں کو خالی رکھا گیا لیکن 28 سال سے زیادہ عمر کے طلبہ کو داخلہ نہیں دیا گیا ۔ یہ طلبہ یونیورسٹی کے چکر لگاتے رہے لیکن انہیں مایوس لوٹا دیا گیا ۔ داخلوں کے لیے موجودہ طریقہ کار ناقابل فہم اور مشکلات پر مبنی ہے ۔ اردو میڈیم ذریعہ تعلیمی نظام پرائمری سطح سے لے کر گریجویشن سطح تک مشکلات میں گھرا ہوا ہے ۔ کہیں پرائمری سطح پر نصاب دستیاب نہیں تو کہیں اساتذہ اور کہیں عمارتوں کا فقدان ہے ۔ ضلعی سطح پر ایک یا دو جونیر و ڈگری کالج کا دستیاب ہونا مشکل ہے ۔ ایسی صورت میں گریجویشن سطح تک اردو ذریعہ تعلیم سے طلبہ اگر کامیاب ہوجاتے ہیں تو یقینا ایک بڑی جدوجہد ہے ۔ تاہم اس سطح پر اگر اردو کے نام پر قائم یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے شرائط اور پھر محرومی یقینا سخت ترین نقصان ہے ۔ دانشوروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے احکامات سے فوری دستبرداری اختیار کرتے ہوئے داخلوں کو یقینی بنانا چاہئے ۔ ایسا نہ ہو کہ اردو کے نام پر قائم یونیورسٹی میں اردو داں طبقہ کو محرومی کا سامنا احتجاج کا سبب نہ بن جائے ۔۔