موصل کے سفر پر آسٹریلیا کا امتناع

داعش کی سرکوبی کیلئے نئے قانون کے تحت اقدامات
کینبرا۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے جنگجوؤں کے زیرقبضہ عراقی شہر موصل دہشت گردوں کا وہ دوسرا طاقتور گڑھ بن گیا ہے، جہاں آسٹریلیا نے بیرونی جنگجوؤں کو داخلہ سے باز رکھنے کے مقصد سے وضع کردہ انسداد دہشت گردی کے جدید قوانین کے تحت اپنے شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کردیا ہے۔ وزیر خارجہ مسز جولی بشپ نے کہا کہ شمالی عراق کا علاقہ موصل گزشتہ سال وضع کردہ نئے قانون کے فوجداری ضابطہ کے تحت ممنوعہ قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ آسٹریلیائی قوانین کے تحت اب وہاں (موصل) جانا منع ہے جس کی خلاف ورزی پر 10 سال کی قید ہوسکتی ہے۔ قبل ازیں آسٹریلیا نے شام میں داعش کے زیرقبضہ علاقہ رقہ میں بھی داخلہ پر امتناع عائد کیا تھا جس کے بعد موصل دوسرا مقام ہے جہاں کے سفر پر آج پابندی عائد کی گئی ہے۔ جولی بشپ نے پارلیمنٹ سے کہا کہ شام کے رقہ کے بعد اب عراق کے موصل کو بھی ممنوعہ علاقہ قرار دینے سے قانون نافذ کرنے والے ہمارے اداروں کو انہیں انصاف کے کٹھہرے میں لانے کی سہولت ہوگی جو دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث پائے جائیں گے۔ اس اقدام کے ذریعہ دہشت گرد تنظیموں سے ربط رکھنے یا ان کے لئے لڑنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ موصل کو دہشت گردوں کے زیرکنٹرول ایک ممنوعہ علاقہ قرار دینا داعش کی سرکوبی کی مہم میں ایک اہم قدم ہے‘‘