حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون ( سیاست نیوز ) موسی ندی کی صفائی اور اس کی عظمت رفتہ بحالی کیلئے 15 ماہ قبل موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ ( ایم آر ایف ڈی سی ایل ) کا قیام عمل میں آیا تھا لیکن ابھی تک کوئی فنڈ جاری نہیں کیا گیا ۔ آر ٹی اے کے ذریعہ معلومات حاصل کرنے پر یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مالی سال 2016 – 17 میں تو مذکورہ پراجکٹ کیلئے کوئی فنڈ ہی مختص نہیں کیا گیا جبکہ 2017 – 18 میں 500 کروڑ روپئے فنڈ مقرر کیا گیا لیکن ہنوز کوئی رقم جاری نہیں کی گئی ۔ ایم آر ایف ڈی سی ایل باڈی کی اس لئے تشکیل عمل میں آئی تھی کہ وہ موسی ندی کی صفائی اور اس کی خوبصورتی کیلئے ایک جامع منصوبہ تیار کرے اور اس ایجنسی کو یہ اختیار بھی دیا گیا تھا کہ وہ منصوبے کی تیاری اور لائحہ عمل کیلئے تمام تر مطالعہ کرے جس سے نہ صرف موسی ندی کو آلودگی سے پاک کیا جائے بلکہ اس کی عظمت رفتہ بھی بحال کیا جائے ۔ حد تو یہ ہوگئی کہ موسی ندی کی صفائی کا پراجکٹ برفدان کی نذر ہوگیا بلکہ ایم آر ایف ڈی سی ایل کے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر دفتری اخراجات کیلئے اس ایجنسی کو اربن فینانس اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( ٹی یو ایف آئی ڈی سی ) سے 30 لاکھ روپئے کا لون لینا پڑا ۔ علاوہ ازیں بورڈ کا پہلا اجلاس 26 جون 2017 کو ہوا جس کے بعد صحافتی بیان میں کہا گیا تھا کہ موسی ندی کے پراجکٹ کیلئے 500کروڑ کا بجٹ منظور کیا گیا ہے اور یہ 2017 – 18 مالیاتی سال میں فراہم کیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں یہ بھی وضاحت کی گئی تھی کہ حکومت اس فنڈ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 1500 کروڑ تک بڑھائے گی ۔ لیکن تمام امور ہنوز کاغذات تک ہی محدود ہیں ۔