موسیٰ ندی کے پیٹ میں مٹی بھرنے کا سلسلہ جاری

حیدرآباد ۔ 20 ۔ اگست : ایک ایسے وقت جب سرکاری عہدیدار 15 اگست کی تیاریوں میں مصروف تھے اور بعد ازاں ریاست بھر میں منعقد ہونے والے جامع سروے کے لیے مصروف ہوگئے ۔ اسی دوران چند افراد موسیٰ ندی میں شمشان گھاٹ سے متصل ایک وسیع حصے پر قبضہ کرنے میں مصروف دیکھے گئے ۔ قارئین سیاست کی جانب سے شکایات موصول ہونے پر جب ہم نے مذکورہ مقام کا دورہ کیا تو ہم نے دیکھا کہ شمشان گھاٹ سے متصل موسیٰ ندی کی ایک وسیع اراضی پر لاریوں سے مٹی لا لا کر ڈالا جارہا ہے اور زمین کے ایک بڑے حصے کو ہڑپنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ لب سڑک بہادر پورہ تا پرانا پل راتوں رات اس مقام پر مٹی ڈال کر تقریبا 2 ایکڑ اراضی کو ہڑپنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مگر اس کے باوجود محکمہ بلدیہ خاموش ہے ۔ حالانکہ ایم آر او کا دفتر اور پولیس اسٹیشن دونوں یہاں سے بالکل قریب میں ہی موجود ہے مگر قابضین کے خلاف قصداً چشم پوشی اختیار کی جارہی ہے ۔ جس کے نتیجے میں مذکورہ افراد بے خوف و خطر اپنے ناپاک منصوبوں کی تکمیل میں مصروف ہیں ۔ عوام کا سوال یہ ہے کہ ان افراد کو کون سے محکمہ نے NOC جاری کیا ہے ؟ عوام کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد کی اس بے خوف حرکت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قیمتی اراضی پر قبضہ میں لینے کے لیے انہوں نے نیچے سے اوپر تک سب کا خیال رکھا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ سابقہ کرن کمار حکومت نے موسیٰ ندی پراجکٹ کے لیے 45 کروڑ روپئے جاری کیا تھا مگر اس کا تاحال کوئی فائدہ نہیں ہوسکا ۔ قبل ازیں حکومت نے موسی ندی کی آبگیر علاقہ پر قابض پٹہ داروں کو معاوضہ دے کر تخلیہ کرانے کا فیصلہ کیا تھا ۔

جس کے تحت ایسے افراد جن کے آبا و اجداد کو حضور نظام کی جانب سے ریاست حیدرآباد میں موسی ندی کے پٹہ جات دئیے گئے تھے ۔ صرف انہیں ہی معاوضہ دیا جائے گا ۔ چونکہ یہ پٹہ جات انہیں گھانس اگانے کے لیے دئیے گئے تھے ۔ لیکن پٹہ داروں نے بعد میں غیر قانونی طور پر مکانات تعمیر کرلیے ۔ ایک اندازہ کے مطابق تقریبا 5 ہزار مکانات تعمیر کئے گئے ۔ حکومت کے مطابق 57 ہزار 721 مربع گز پر جو قبضے ہیں وہ حکومت کی اراضی ہے ۔ جب کہ 68 ہزار 924 مربع گز جو ناجائز مکانات تعمیر کرلیے گئے ہیں ۔ وہ پٹہ زمین بتائی گئی ہے ۔ موسی ندی میں آلودگی روکنے کے لیے حکومت ایک ہزار کروڑ روپئے سے زائد خرچ کردی ہے مگر اس کا بھی تاحال کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے اور ندی کے دونوں طرف قبضہ جات برقرار ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتداء میں مٹی ڈالی جاتی ہے ۔ پھر اس پر تعمیر کر کے کرایہ پر دیا جاتا ہے یا پھر فروخت کردیا جاتا ہے ۔ چند افراد کے چادر گھاٹ بریج کے پاس سب سے زیادہ ناجائز قبضے ہیں ۔ جہاں 5 تا 8 ہزار روپئے فی مربع گز اراضی فروخت کی جارہی ہے ۔ بہرحال اب چونکہ 15 اگست بھی گذر چکا ہے اور سروے بھی ہوچکا ہے ۔ لہذا ارباب مجاز کو چاہئے کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے ۔ جو راتوں رات اس قیمتی اراضی کو ہڑپ لینے کا منصوبہ رکھتے ہیں سابقہ حکومتوں سے موسی ندی کے تحفظ کے نام پر کروڑہا روپئے ضائع کردئیے ہیں اور تحفظ کے اعلانات اخبارات اور ٹیلی ویژن تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹی آر ایس حکومت موسی ندی کے تحفظ کے لیے کوئی عملی اقدامات کرتی ہے یا نہیں ۔۔