مودی 2019ء کیلئے مسلمانوں کے پسندیدہ ترین وزیراعظم

سابق مرکزی وزیر بی جے پی قائد شاہنواز حسین کا انٹرویو ‘ ناموں کی تبدیلی کا تذکرہ ‘ مسلمانوں کو انصاف رسانی کا ادعا

نئی دہلی ۔ 28اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) نریندر مودی کئی پارٹیوں بشمول مسلمانوں کے پسندیدہ ترین وزیراعظم ہیں ۔ وہ کئی سیاسی پارٹیوں میں خوفزدہ پیدا کرچکے ہیں جبکہ مسلم برادری اپنے وزیراعظم کے طور پر مودی کا نام لیتی ہے ۔ بی جے پی قائد شاہنواز حسین نے اتوار کے دن کہاکہ انہیں مسلمانوں میں مودی پر بھروسہ میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بھی مودی پر بھروسہ ہے ۔ خاص طور پر خواتین میں مودی کی مقبولیت روز افزوں ہیں ۔ وزیراعظم ملک کے 132کروڑ ہندوستانیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ مسلمان ہندوستان کی 130 آبادی کا صرف 14فیصد حصہ ہیں لیکن انتخابات میں یہ برادری اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ کرناٹک ‘ کیرالا ‘ یو پی ‘ آسام ‘ بہار ‘ مغربی بنگال ‘ جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر میں آئندہ انتخابی نتائج میں مسلمانوں کا اہم کردار ہوگا ۔ شاہنواز حسین الزام عائد کیا کہ کانگریس غربت اور پسماندگی کی ہندوستان کے مسلمانوں میں ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اس برادری کے ساتھ ناانصافی کی ہے جب کہ ہماری پارٹی نے انہیں انصاف فراہم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء میں بعض لوگ دیگر افراد کو نریندر مودی کے دور اقتدار سے ڈرایا کرتے تھے ۔ ان میں سے کثیر تعداد مسلم برادری کی تھی جس کا احساس تھا کہ وہ دن رات کس طرح کام کرسکیں گے ۔ نریندر مودی نے تمام 132 کروڑ ہندوستانیوں کو ہمیشہ یکساں سمجھا ‘ دیگر پارٹیوں نے مسلمانوں کو جعلی نوٹوں کی طرح استعمال کیا اور مودی اور بی جے پی کے خلاف خوف پھیلایا ۔ شاہنواز حسین نے کہا کہ اب وہ دیکھ چکے ہیں کہ مودی برسراقتدار ہیں لیکن کوئی مسائل پیدا نہیں کرتے ۔ وہ دیکھ چکے ہیں کہ وزیراعظم نے شمشان اور قبرستان کے بارے میں کیا بیان دیا ہے ۔ گذشتہ سال یو پی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے تھے لیکن ان کی غلط تاویل کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی میں بعض افراد بعض بیانات کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ انہیں بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کے بیانات پر بھروسہ ہے ۔سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ صدر بی جے پی اور ہمارے وزیراعظم نے کبھی مسلمانوں کے جذبات مجروح نہیں کئے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم برادری 2019ء کے عام انتخابات کے بعد ایک دوسرے کے قریب آچکے ہیں ۔ شاہنواز حسین نے یہ بھی کہا کہ آلہ آباد کا نام پریاگ راج اس لئے رکھا گیا کیونکہ ماضی میں اس کا یہی نام تھا ۔ اس طرح انصاف بحال کیا گیا ۔ کیونکہ اس نام کو بدل دیا گیا تھا اور یہ ایک غلط کارروائی تھی ۔ پہلے بھی بنگلور کا نام تبدیل کر کے بنگلورو رکھا گیا تھا اور مدراس کا چینائی اس لئے اب تاریخ تبدیل کرنے کا سوال کہا ں سے پیدا ہوگیا ۔