مودی = ’جمہوری ہندوستان کا قتل‘۔ پارلیمنٹ نظرانداز

بنگلورو ؍ ممبئی ، 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کاٹ دار جوابی مہم میں کانگریس نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے پاس ایسا کوئی کام نہیں ہے جو حقیقی معنوں میں کی گئی کارگزاری کے طور پر دکھایا جاسکے اور انھیں ’’ایک شخص کی حکومت‘‘ چلاتے ہوئے ’’جمہوری اداروں کے قتل‘‘ کا موردِ الزام ٹھہرایا۔ مودی حکومت کے ایک سال پر پانچ ابواب کا رپورٹ کارڈ پیش کرتے ہوئے کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے کہا کہ ’MODI‘ کا مطلب ’’مرڈر آف ڈیموکریٹک اِنڈیا‘‘ ہے کیونکہ اس حکومت نے پارلیمنٹ کو نظرانداز کردیا جس میں اس کی ’’اعظم ترین حکمرانی اعظم ترین غرور اور اقل ترین حکومت ایک شخص کی حکومت بن گئی‘‘ ہے۔ مودی کو ’’سوپر گگن ویہاری‘‘ قرار دیتے ہوئے کانگریس قائدین نے وزیراعظم کو اُن کے بیرونی دوروں پر بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ وہ بس اپنے ’گلوبل امیج‘ کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن پارٹی نے مودی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کو قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کا موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’’دفاعی مصارف میں کٹوتی‘‘، بار بار فائربندی خلاف ورزیوں، ہندوستانی خطہ میں پاکستانی اور چینی دراندازی اور ایک رتبہ ایک پنشن اسکیم کے بارے میں عدم فیصلہ سے اس حکومت کو کسی بھی اہم معاملے پر تعلق خاطر نہ ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ رمیش نے بنگلورو میں ’رپورٹ کارڈ‘ پیش کیا جبکہ دیگر پارٹی قائدین بشمول سلمان خورشید نے دیگر مقامات جیسے پٹنہ ، احمدآباد، بھوپال میں میڈیا کے ذریعے مودی حکومت کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔