کٹھمنڈو ۔ 25 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج اپنے نیپالی ہم منصب سشیل کوئرالا کے ساتھ کلیدی مسائل پر بات چیت منعقد کی جس کے بعد 10 معاہدوں پر دستخط کئے گئے جن میں نیپال کو ایک بلین امریکی ڈالر کی اعانت سے متعلق معاہدہ شامل ہے۔ متعدد اہم مسائل بشمول دفاع اور سلامتی پر مودی اور کوئرالا کے درمیان بات چیت ہوئی جو لگ بھگ 40 منٹ چلی۔ باہمی روابط کے تعلق سے بات کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ جب ہم ایک دوسرے پر بھروسہ کریں تو ہم بہت تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کٹھمنڈو کے بیر ہاسپٹل میں ہندوستان کی جانب سے تعمیر کردہ ٹراما سنٹر کا افتتاح کرنے کے بعد کہا کہ جو پراجکٹس 25 سال سے لیت و لعل کا شکار تھے، آگے بڑھ رہے ہیں۔ مجھے بہت اطمینان ہورہا ہے۔ دونوں قائدین کے درمیان بات چیت کے بعد دونوں فریقوں نے نیپال کے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لئے ایک بلین ڈالر کی ہندوستانی اعانت کے قواعد و شرائط کو قطعیت دی، جس کا مودی نے اپنے اگست کے دورہ میں اعلان کیا تھا۔ مودی جو سہ روزہ دورہ کیلئے آج صبح یہاں پہنچے، وہ کل شروع ہونے والی دو روزہ 18 ویں سارک سمٹ میں شرکت کے علاوہ مختلف سارک سربراہان مملکت اور حکومت کے ساتھ باہمی اجلاس منعقد کریں گے۔ ہندوستان اور نیپال نے آج موٹر وہیکل اگریمنٹ پر دستخط کئے جس کے تحت ایک دوسرے کے ملک میں مخصوص روٹس پر گاڑیاں چلانے کی اجازت دی جائے گی۔
دونوں ملکوں نے کٹھمنڈو۔ وارانسی، جنک پور۔ ایودھیا اور لمبنی۔ بودھ گیا کے درمیان تین ٹوئین سٹی معاہدوں پر بھی دستخط کئے۔ دونوں ممالک کے درمیان دستخط کئے گئے 10 معاہدوں میں نیپال کو نیشنل پولیس اکیڈیمی کی تعمیر میں ہندوستان کی اعانت سے متعلق یادداشت مفاہمت (ایم او یو)، ایم او یو برائے سیاحت، ایم او یو برائے روایتی ادویات اور ایم او یو برائے تبادلہ نوجوانان شامل ہیں۔ ایک اور ایم او یو دریائے ارون پر 900 میگاواٹ ہائیڈرو الیکٹرک پراجکٹ سے متعلق ہے۔
٭ اس دوران وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے میزبان ہم منصب سشیل کوئرالا نے آج یہاں سے اولین کٹھمنڈو ۔دہلی بس سرویس کو جھنڈی دکھائی جسے پشوپتی ناتھ ایکسپریس کا نام دیا گیا ہے۔ اس افتتاحی سفر سے قبل دونوں وزرائے اعظم بس میں سوار ہوئے جسے خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ دونوں قائدین نے مسافرین سے گفتگو کی۔ نیپال سے یہ بس روٹ کٹھمنڈو سے ہوکر گورکھپور اور لکھنو کے بعد نئی دہلی پہنچے گی۔
وزیراعظم مودی کی سارک کانفرنس میں شرکت کیلئے نیپال روانگی
کٹھمنڈو 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے نیپال روانگی سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان اپنے پڑوسی ممالک سے قریبی روابط کو اوّلین ترجیح دیتا ہے اور سارک چوٹی کانفرنس کے دوران سارک سربراہان مملکت سے علیحدہ طور پر بات چیت کا متمنی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے اُن کی ملاقات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اُن کی ملاقات صدر افغانستان اشرف غنی، وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ، صدر سری لنکا مہندا راجہ پکسا اور دیگر سے مقرر ہے۔ مودی 26 اور 27 نومبر کو 18 ویں سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے اور اُمید ہے کہ وہ ترقی اور روابط کے شعبوں میں بعض ٹھوس معاہدوں کو قطعیت دیں گے۔ روانگی سے قبل اُنھوں نے کہاکہ حالانکہ یہ میری پہلی سارک چوٹی کانفرنس ہوگی لیکن وہ سارک ممالک کے قائدین کے ساتھ ابتداء ہی سے خوشگوار تعلقات رکھتے ہیں۔ اُن کی حلف برداری تقریب میں تمام سارک قائدین کو مدعو کیا گیا تھا کیونکہ پڑوسی ممالک سے تعلقات اُن کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دریں اثناء نریندر مودی کٹھمنڈو پہونچ گئے جس کا مقصد علاقائی گروپ سارک میں دو روزہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے کٹھمنڈو میں اُن کی آمد پر اُن کی گرمجوش خیرمقدم کیا گیا، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ لڑکیوں کے ایک گروپ نے ثقافتی پروگرام پیش کیا۔
اُمید ہے کہ نریندر مودی مختلف مسائل پر چوٹی کانفرنس کے دوران ہندوستان کا موقف واضح کریں گے اور جنوبی ایشیائی سربراہان مملکت و حکومت سے ملاقاتیں کریں گے۔ سارک چوٹی کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’امن اور خوشحالی کیلئے گہری علاقائی یکجہتی‘‘ ہے۔ لیکن اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان نے ہمیشہ عظیم تر علاقائی یکجہتی ہر سطح پر قائم کرنے کے لئے اور جنوبی ایشیائی علاقہ میں سماجی ۔ معاشی ترقی کے لئے زور دیا ہے۔ مودی نے کہاکہ ہم نے اِس سلسلہ میں کئی باہمی، ضمنی ۔ علاقائی اور علاقائی بنیادوں پر اقدامات کئے ہیں اور مزید اقدامات جاری رکھیں گے۔ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ چوٹی کانفرنس کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے خاص طور پر مختلف اقدامات کے ذریعہ باہمی روابط میں اضافہ ہوگا۔ جن پر طویل مدت سے تبادلہ خیال جاری ہے۔ وزیراعظم مودی کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد میں وزیر خارجہ سشما سوراج، مشیر قومی سلامتی اجیت گوول، معتمد خارجہ سجاتا سنگھ اور مختلف وزارتوں کے کئی سرکاری عہدیدار شامل ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ اگر نیپال جلد از جلد اپنے دستور کی تدوین کرنے سے قاصر رہے تو اِس کے لئے مسائل پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم مودی کا نیپال کو تعلقات میں
بہتری کیلئے ترقی یافتہ ہیلی کاپٹر کا تحفہ
کٹھمنڈو 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) باہمی تعلقات میں استحکام پیدا کرنے سے ہندوستان کی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج نیپال کو ایک ترقی یافتہ ہلکا ہیلی کاپٹر حوالہ کیا جسے فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جاسکے گا۔ مودی نے کہاکہ اِس سے نیپال کے حفاظتی انتظامات میں اضافہ ہوگا۔ دھرو مارک تھری ہیلی کاپٹر سرکاری زیرانتظام ایرو اسپیس این ڈیفنس کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ کا تیار کردہ ہے۔ مارک تھری اصل دھرو ہیلی کاپٹر کا تازہ ترین ایڈیشن ہے اور اِس میں شکتی انجن، نیا برقی جنگی حکمت عملی کا سوٹ اور انتباہی نظام نصب ہیں۔ علاوہ ازیں آٹومیٹک چیف اور فلیر ڈسپنسرس اور ترقی یافتہ وائبریشن کنٹرول سسٹم موجود ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر 60 تا 80 کروڑ روپئے مالیتی ہے اور حال ہی میں دیگر تین ممالک بشمول مالدیپ اور ایکواڈور نے درآمد کیا ہے۔