مودی کے خلاف ایف آئی آرسے گجرات پولیس کا انکار

احمدآباد۔6 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) گجرات پولیس نے ایک معطل شدہ آئی اے ایس آفیسر پردیپ شرما کی شکایت پر ایک خاتون پر خفیہ نظر رکھنے ( تانک جھانک ) کے اسکینڈل میں چیف منسٹر نریندرمودی اور ان کے قریبی رفیق کار امیت شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد پردیپ شرما نے عدالت سے رجوع ہونے کی دھمکی دی ہے ۔ اس موضوع کو منظر عام پر لانے والوں میں ان ( شرما) کا نام بھی شامل ہے ۔ وہ اپنی شکایت کے ساتھ گاندھی نگر پولیس اسٹیشن پہنچے تھے اور مودی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی تھی لیکن پولیس نے صرف ان کی شکایت وصول کرلی ۔ بعد ازاں شرما نے کہا کہ ’’ سیکٹر۔7 پولیس اسٹیشن کے پولیس انسپکٹر ( انچارج) نے شکایت قبول کی لیکن ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا ۔ چنانچہ اب میں اپنی شکایت درج کروانے ایس پی کے دفتر روانہ ہورہا ہوں ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر درج کروانے کی کوششوں میں ناکامی کی صورت میں وہ عدالت سے رجوع ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ سیکٹر۔7پولیس اسٹیشن کے عہدیداروں میں کوئی بھی ابتدائی کارروائی کرنے سے انکار کردیا ۔

انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہیکہ کمیشن یا عدالت سے رجوع ہوں ‘‘ ۔ معطل شدہ آئی اے ایس آفیسرنے کہا کہ وہ اس واقعہ سے متاثر فریق ہیں چنانچہ ان کے پاس ایف آئی آر درج کروانے کا جواز و اختیار موجود ہے ۔ پردیپ شرما نے کہاکہ ’’ یہ مستوجب سزا جرم ہے اور سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مستوجب سزا جرائم کے بارے میں شکایت پر ایف آئی آر درج کرنا چاہیئے ۔ انہوں نے کہاکہ ’’ میں نے غلیل ڈاٹ کام اور کوبرا پوسٹ ویب سائیٹس کے آڈیو کلپنگ بھی بطور ثبوت پیش کئے ہیں‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ یہ شکایات گجرات کے چیف منسٹر نریندر مودی‘ سابق وزیر داخلہ امیت شاہ اور اس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس اے کے شرما اور دوسروں کے خلاف ہیں ‘‘ ۔ شرما نے کہا کہ اس اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے تشکیل دیئے جانے والے تحقیقاتی کمیشن کو سفارشات کرنے کے اختیار حاصل ہیں لیکن وہ پولیس ہی ہوسکتی ہے جو ایف آئی آر درج کرتی ہے ۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے آج کہا کہ 2009ء میں گجرات حکومت کی جانب سے ایک نوجوان خاتون کی مبینہ جاسوسی کے الزامات کی تحقیقات کیلئے عنقریب سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کا تقرر کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزارت نے ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج کے ذریعہ تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔

کجریوال کی جانب سے سیکیورٹی سے انکار کے بارے میں پوچھے جانے پر شنڈے نے کہا کہ وزارت داخلہ جس کسی کو ضرورت ہو انہیں خاطرخواہ سیکیورٹی فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف کجریوال کو سیکیورٹی کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کردیا دوسری طرف چیف منسٹر گجرات مودی کو غیرمعمولی سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے‘ کیونکہ انہیں دہشت گرد تنظیموں سے خطرہ لاحق ہے ۔یہ دو اپنی نوعیت کی الگ مثالیں ہیں ۔