’’مودی کی مقبولیت کو ٹھیس پہونچانے

ہجومی تشدد ایک سازش ‘‘: مرکزی وزیر کا ردعمل
بی جے پی ریاستوں میں ہی گاؤ رکھشکوں کی دہشت مشتبہ
الور۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان میں گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں ایک شخص کے قتل پر اُٹھنی والی آوازوں کے درمیان مرکزی وزیر ارجن رام میگھول نے ان واقعات کی مودی کی مقبولیت سے مربوط کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی مقبولیت سے خوف زدہ لوگ انہیں بدنام کرنے کیلئے ہجوم تشدد برپا کررہے ہیں جو ایک سازش ہے۔ اکبر خاں کو کل راجستھان کے ضلع آلور میں ہلاک کیا گیا تھا۔ کانگریس نے اس واقعہ پر شدید تنقید کی تھی۔ راجستھان کانگریس صدر سچن پائیلٹ نے کہا کہ مسلمانوں کا قتل مشتبہ نوعیت کا ہے کیونکہ یہ افسوسناک واقعات بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں ہی وقوع پذیر ہورہے ہیں۔ اخباری نمائندوں نے جب مرکز میں وزارتِ آبی وسائل کے جونیر وزیر ارجن رام میگھول سے سوال کیا کہ اگر بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں سے ہی گاؤ دہشت گردوں کی جانب سے قتل کے کیس سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے جب مودی کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، یہ واقعات بھی رونما ہورہے ہیں۔ مودی کی مقبولیت کو ٹھیس پہونچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب بہار انتخابات ہوئے تو مذہبی تبدیلی کے واقعات ہورہے تھے تو ہجومی تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔ یہ سب مودی حکومت کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ اس طرح ہجومی تشدد کی مذمت کی اور کہا کہ یہ واحد واقعہ نہیں ہے آپ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ آخر یہ واقعات کیوں ہورہے ہیں، ہمیں ان واقعات کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے ہماری انتہائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ 1964ء میں سکھوں کیساتھ کیا ہوا یہ سب جانتے ہیں، اس ملک میں سب سے زیادہ ہجومی تشدد سکھوں کے ساتھ ہوا تھا۔