مودی کی باتوں میں کوئی ٹھوس مواد نہیں : راہول گاندھی

’2014 ء میں جن مسائل پر خوب بولتے تھے اب بالکل خاموش کیوں ہیں ؟ ‘
ودیشا ۔ /23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ہندوستانیوں نے اب یہ محسوس کرلیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی باتوں میں کوئی ٹھوس مواد نہیں ہے اور وہ (مودی) ان تمام مسائل پر بالکل خاموش بہ لب ہوگئے ہیں جن پر 2014 ء کے عام انتخابات سے قبل بہت زیادہ بولا کرتے تھے ۔ راہول گاندھی نے /28 نومبر کو اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے والی ریاست مدھیہ پردیش میں آج ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی تقریریں رشوت ستانی ، کسانوں اور بیروزگاری جیسے اہم مسائل کے بارے میں ہونا چاہئیے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ’ آج وہ ان مسائل پر کچھ نہیں کہتے ۔ ملک کے عوام سمجھ چکے ہیں کہ مودی کی باتوں میں کوئی ٹھوس مواد نہیں ہے ۔ ان کے تمام وعدے و تیقنات غلط ہیں ‘‘ ۔ ’ 2014 ء سے قبل نریندر مودی قرضوں کی معافی ، کسانوں کو بہتر زرعی پیداوار کا وعدہ کیا تھا ۔ میں اُن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان وعدوں کی تکمیل کیوں نہیں کی گئی ‘ ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ انتخابات کا سامنا کرنے والی تمام ریاستوں میں بدترین بیروزگاری اور زرعی بحران ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ یومیہ 450 نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کی جارہی ہیں جبکہ چین میں 24 گھنٹوں کے دوران 50,000 نوجوانوں کو روزگار فر اہم کیا جارہا ہے ۔ راہول گاندھی نے وعدہ کیا کہ ’مدھیہ پردیش میں کانگریس کو حصول اقتدار کے اندرون 10 دن کسانوں کے تمام زرعی قرضہ معاف کردیئے جائیں گے اور مدھیہ پردیش کو زرعی مرکز بنایا جائے گا ‘۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے دوست انیل امبانی عوامی شعبہ کی بینکوں کو 45000 کروڑ روپئے کے مقروض ہیں ۔ چنانچہ ان کا قرض اتارنے کے لئے امبانی کو عوام سے ٹیکس کی شکل میں وصول کردہ 30,000 کروڑ روپئے رافیل معاملت کی شکل میں دیدیئے گئے ۔ حتی کہ بی جے پی قائدین یشونت سنہا اور ارون شوری بھی کہہ چکے ہیں کہ رافیل معاملت میں ضابطہ کی پابندی نہیں کی گئی ۔ سی بی آئی کے ڈائرکٹر، رافیل معاملت کی تحقیقات شروع کرنے ہی والے تھے کہ 2 بجے رات انہیں عہدہ سے ہٹادیا گیا ۔ اگر یہ تحقیقات کی گئیں تو صرف دو ہی نام آئیں گے ۔ ایک مودی اور دوسرا نام امبانی ہوگا ۔

مودی نے ہندوستان کے تمام چوکیداروں کو بدنام کردیا : راہول گاندھی
وڈیشہ 23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج الزام عائد کیاکہ نریندر مودی نے ہندوستان کے تمام چوکیداروں کو بدنام کردیا ہے۔ وہ 28 نومبر تک مدھیہ پردیش میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے رہیں گے۔ راہول گاندھی نے کہاکہ صورتحال فی الحال ایسی ہے کہ جب بھی چوکیدار کا نام آتا ہے، لوگ کہتے ہیں ’’چور ہے‘‘۔ آپ جہاں بھی جائیں اور یہ لفظ کہیں جواب یہی ملے گا کہ وہ چور ہے۔ میں تمام چوکیداروں سے معذرت خواہ ہوں حالانکہ یہ آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے لیکن آپ کو چور کہا جارہا ہے۔ آپ تمام دیانتدار ہیں، صرف ایک شخص نے آپ تمام کو یہ بدنامی عطا کی ہے اور بدقسمتی سے وہ ملک کا وزیراعظم ہے جو خود کو چوکیدار کہتا ہے۔ 2014 ء میں برسر اقتدار آنے سے پہلے مودی کرپشن، بیروزگاری اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کا تذکرہ کرتے رہتے تھے لیکن وہ آج اِن تمام مسائل پر بالکل خاموش ہیں۔ راہول گاندھی نے کہاکہ ملک کا احساس ہے کہ اُنھوں نے اعتماد شکنی کی ہے۔ جب مودی نے اچھے دن کا تیقن دیا تھا تو 2014 ء میں عوام نے اِس محاورہ کو اپنالیا تھا اور وہ جوابی نعرہ لگاتے تھے ’’آئیں گے آئیں گے‘‘ لیکن مودی اپنا انتخابی تیقن پورا نہیں کرسکے۔ 4 سال میں آخر اُن میں ایسی کیا تبدیلی آگئی ہے کہ لوگ اُنھیں جھوٹا نریندر مودی کہنے لگے ہیں، کیوں کہ وہ ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں۔