مودی کو ’’مصروف نظر آنا لیکن کچھ نہ کرنا ‘‘ کا عارضہ

نئی دہلی ۔ /17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر منیش تیواری نے نریندر مودی کے اس دعوے کا مضحکہ اڑایا کہ وہ بے تکان کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کو دراصل ایک بیماری ہے جسے ’’مصروف نظر آنا لیکن کچھ نہ کرنا‘‘ کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بعض لوگ کام کرتے نظر آتے ہیں وہ کچھ نہیں کرتے ۔ یہ ایک بیماری ہے جسے انگریزی میں (LBDN) کہا جاتا ہے ۔ نریندر مودی بھی اسی بیماری کا شکار ہیں جہاں وہ مصروف نظر آتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران نریندر مودی نے جو اچھے دن کے خواب دکھائے تھے آج اس کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ یہ گیت گارہے ہیں ’’کوئی لوٹا دے میرے اچھے دن‘‘۔ واضح رہے کہ نریندر مودی نے کل شنگھائی میں بیرونی دوروں پر اپوزیشن کی تنقیدوں کے سلسلے میں خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر بے تکان کام کرنے پر تنقیدیں کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ جرم ہے تو وہ ایسا کرتے رہیں گے ۔ کانگریس کے ایک اور لیڈر انیل شاستری نے بھی مودی کی جانب سے گزشتہ 30 سال کی حکومتوں پر تنقید کو بالکلیہ مسترد کردیا ۔ ان 30 سالوں میں اٹل بہاری واجپائی کا دور حکومت بھی گزرچکا ہے ۔ انیل شاستری نے کہا کہ ملک میں مودی کی لفاظی کو اب کوئی قبول نہیں کررہا ہے اس لئے وہ بیرونی سرزمین پر اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں ۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ آخر مودی نے بیرونی سرزمین پر گزشتہ 30 سال کی حکومتوں پر تنقید کیوں کی ۔ حالانکہ اس میں اٹل جی کی حکومت بھی شامل ہے ۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ان کی مبالغہ آرائی کو سننے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے ایک اور ٹوئٹ کیا کہ ہندوستان میں لوگ مودی کی بیان بازی اور مبالغہ آرائی پر مبنی تقاریر سے تنگ آچکے ہیں ۔ شائد اسی لئے انہوں نے اپنی حکومت کی ایک سالہ تکمیل کا جشن بیرونی سرزمین پر منانے کا فیصلہ کیا ۔