مودی نے آسٹریلیا میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کی نقاب کشائی کی

برسبین۔ 16؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ دُنیا بھر کو مہاتما گاندھی کی نصیحت پر عمل آوری کرتے ہوئے دہشت گردی اور عالمی حدت کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ دُنیا بھر کے ممالک کے باہمی روابط ان ممالک اور ان کے شہروں کی خوشحالی کی ضمانت ہوں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان اور آسٹریلیا کے تعلقات خصوصی نوعیت کے ہیں۔ انھوں نے اپنے دورۂ آسٹریلیا اور برسبین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہند۔ آسٹریلیا شراکت داری ہندوستان کے وسائل اور تحقیقات کو طاقتور بنانے میں اپنا حصہ ادا کرنے میں سب سے آگے ہے۔ دریں اثناء ہندوستان کی جانب سے سنسکرت کی متبادل تیسری زبان کی حیثیت سے کیندریہ ودیالیوں سے خارج کرنے کے فیصلہ پر چانسلر جرمنی اینجلا میرکل نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران یہ مسئلہ اُٹھایا۔ جی 20 چوٹی کانفرنس کے موقع پر علیحدہ طور پر ملاقات کے دوران انھوں نے یہ مسئلہ اُٹھانے کے علاوہ وزیراعظم مودی کو دورۂ جرمنی کی دعوت دی۔

وزیراعظم نے میرکل کو تیقن دیا کہ وہ شخصی طور پر نوجوان ہندوستانی بچوں کے دیگر ممالک کی زبانیں سیکھنے کے حامی ہیں اور اس مسئلہ کا شخصی طور پر جائزہ لیں گے اور ہندوستانی نظام کے چوکٹھے میں جو کچھ بہترین کوشش ممکن ہوسکتی ہے، کریں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے مہاتما گاندھی کے مجسمہ کی روما اسٹریٹ پارک لینڈ میں نقاب کشائی کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی کی عدم تشدد اور محبت کی پالیسیوں کو موجودہ دور میں بھی اتنا ہی کارآمد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے جتنا کہ گاندھی جی کی زندگی میں تھے۔ انھوں نے کہا کہ 2 اکٹوبر 1869ء کو پوربندر میں ایک شخص کی پیدائش نہیں ہوئی تھی بلکہ ایک دور کا آغاز ہوا تھا۔ انھوں نے گاندھی جی کے کانسہ کے مجسمہ کی نقاب کشائی کے وقت جمع ہندوستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دُنیا کو آج دو بڑے چیالنجوں دہشت گردی اور عالمی حدت کا سامنا ہے۔ دونوں پریشان کن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جی 20 قائدین نے بھی ان مسائل پر بات چیت میں کافی وقت صرف کیا ہے۔