مختلف جماعتوں سے تائید حاصل کرنے چندرا بابو نائیڈو کے مکتوب کے ساتھ تلگودیشم ایم پیز سرگرم
امراوتی 17 جولائی ( پی ٹی آئی ) تلگودیشم پارٹی ایک بار پھر مرکز کی نریندر مودی حکومت کے خلاف لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کوشش کریگی ۔ پارلیمنٹ کے مانسون سشن کا کل سے آغاز ہونے والا ہے ۔ پارٹی کی جانب سے ایوان کی کارروائی میں خلل بھی پیدا کیا جاسکت ہے اگر اس تحریک پر مباحث کا موقع نہ دیا جائے ۔ تلگودیشم پارلیمانی پارٹی نے یہ بات بتائی ۔ تلگودیشم نے مارچ میں این ڈی اے سے تعلقات منقطع کرلئے تھے اور الزام عائد کیا تھا کہ ریاست کے ساتھ مرکزی حکومت کا رویہ متعصبانہ ہے ۔ تلگودیشم پارٹی نے مارچ ۔ اپریل میں پارلیمنٹ بجٹ اجلاس کے دوران تقریبا ہر روز تحریک عدم اعتماد کی نوٹس پیش کی تھی لیکن اس پر ایوان میں مباحث ہی نہیں ہوپائے تھے ۔ تلگودیشم کے ارکان پارلیمنٹ پہلے ہی کئی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کی ہیں ۔ ان کے ساتھ پارٹی صدر چندرا بابو نائیڈو کا ایک مکتوب بھی ہے جس میں ان جماعتوں سے تحریک عدم اعتماد کیلئے تائید طلب کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ این ڈی اے حکومت نے تنظیم جدید آندھرا پردیش میں جو وعدے کئے تھے انہیں پورا نہیں کیا گیا ہے ۔ نائیڈو نے اس مکتوب میں کہا کہ مرکز کی جانب سے ان وعدوں کی عدم تکمیل اور ریاست کو خصوصی موقف نہ دئے جانے سے آندھرا پردیش کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دوسری جماعتوں کی مدد سے تلگودیشم ایم پیز نے گذشتہ پارلیمانی سشن میں مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی لیکن اس پر ایوان میں مباحث نہیں ہوسکے تھے ۔ چندرا بابو نائیڈو کا الزام ہے کہ حکومت نے عمدا اس تحریک پر مباحث کا موقع نہیں دیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ مرکز کے مسلسل ہٹ دھرمی والے رویہ کی وجہ سے تلگودیشم پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ تحریک عدم اعتماد دوبارہ پیش کی جائے ۔