نئی دہلی 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) موجودہ مرکزی حکومت میں ملک بھر کے حالات اور شہریوں کے لئے ماحول اس طرح کا ہوچکا ہے کہ حکومتی کام کاج کے بارے میں سوال اُٹھانے کا کسی کو حق نہیں۔ حکومت کی کارکردگی کا تجزیہ کرنے، اُس کے بارے میں سوالات کرنے اور جوابدہی کو برقرار رکھنے کی بات کہنے والے کو ’شہری نکسلائیٹ‘ اور ’دشمن‘ قرار دیا جارہا ہے۔ آپ انٹرنیٹ پر ’اربن نکسلائیٹس‘ کے الفاظ تلاش کیجئے آپ کو دائیں بازو کی اشاعتوں سے جڑے بے شمار لنکس دستیاب ہوجائیں گے جن میں تفصیل فراہم ہوگی کہ کون عناصر شہری نکسلائیٹس ہیں اور اِن سے جدید ہندوستان کی سالمیت کو کس قدر خطرہ لاحق ہے۔ مصنفین کی جانب سے تنقیدیں اور نکتہ چینی اور اُنھیں خفیہ مخالف ہندوستان ایجنڈہ پر عمل پیرا بتایا جارہا ہے۔ یونیورسٹی کا کوئی بھی اسٹوڈنٹ، آپ کے پڑوس میں رہنے والا کوئی جرنلسٹ، آپ کے بچے کے کالج کا پروفیسر، کوئی جہدکار جو آپ کو اپنی این جی او کے کام کے بارے میں بتائے وہ ظاہر طور پر اربن نکسلائیٹ قرار دیئے جارہے ہیں۔ مختصر یہ کہ نریندر مودی زیرقیادت حکومت میں اپوزیشن یا نقادوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ حکومتی کارکردگی پر تنقید کرنا گویا کہ مخالف دشمن سرگرمی میں حصہ لینا ہوگیا ہے! ہندوستان میں اقلیتوں کی رائے کا احترام کرنے کے معاملہ میں ٹریک ریکارڈ کچھ خاص نہیں ہے یہ ایک حقیقت ہے۔ سمرتی ایرانی نے حال ہی میں ویویک اگنی ہوتری کی کتاب کا رسم اجراء انجام دیا جس میں اُنھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جے این یو اور جادھو پور یونیورسٹی قوم دشمن جذبات بھڑکانے کے اڈے ہیں۔ ویویک اگنی ہوتری جیسے لوگ اربن نکسلائیٹ کے خیالی کرداروں کے تعلق سے پروپگنڈہ کرتے ہوئے یہ فراموش کرجاتے ہیں کہ اختلاف اور عدم اتفاق جمہوریت کا خاصہ ہوتے ہیں لیکن حکومت نے ملک میں کسی قسم کی دانشوریت کے خلاف بے تکان مہم چھیڑ رکھی ہے۔ اِس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت شہریوں سے عملاً اظہار خیال کی آزادی چھیننے کی کوشش کررہی ہے۔ اِس رجحان کے ساتھ حکومت 2019 ء کی انتخابی مہم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ شاید وہ جانتے ہیں کہ اُن کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں اور اُنھیں عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اِن حالات میں اگر دانشور طبقہ اور نقادوں کو آزادانہ اظہار خیال کرنے کا موقع دیا گیا تو اُن کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اب تمام ذمہ دار شہریوں پر منحصر ہے کہ وہ موجودہ نامساعد حالات کا بے جگری سے مقابلہ کرتے ہوئے جمہوریت کا تحفظ کریں۔