مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف احتجاج کا منصوبہ

نئی دہلی۔ 16؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ سی پی آئی ایم نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ نریندر مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کرے گی۔ اس ماہ کے اواخر میں دیہی روزگار ضامن اسکیم کو ’حذف‘ کرنے کے خلاف بھی ڈسمبر میں تمام بائیں بازو پارٹیاں ملک گیر احتجاج میں حصہ لیں گی۔ بائیں بازو کی صف میں نئی جماعتیں جیسے سی پی آئی (ایم ایل)، لبریشن اینڈ سوشلسٹ یونین سنٹر آف انڈیا (کمیونسٹ) نے مرکزی چار بائیں بازو پارٹیوں میں شامل ہوئی ہیں، دیگر کئی ریاستوں میں بھی یہ متحد ہورہی ہیں، خاص کر مغربی بنگال اور پنجاب میں یہ گروپ مل کر کام کریں گے۔ 8 ڈسمبر تا 14 ڈسمبر ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہفتہ طویل احتجاج شروع کیا جائے گا۔ ایک بڑی اور غیر معمولی تبدیلی میں بائیں بازو پارٹیاں متحد ہورہی ہیں۔ ریاستوں میں باہمی اتحاد کے ساتھ ہی انھوں نے انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ بہار میں جہاں سی پی آئی ایم اور سی پی آئی نے سی پی آئی ایم ایل سے اتحاد کیا تھا، انتخابات میں بھی مقابلہ کیا تھا۔ ڈسمبر میں شروع کیا جانے والا احتجاج شدید ہوگا

جس میں حکومت کی ناکامیوں اور پالیسیوں جیسے لیبر قانون میں تبدیلی، قیمتوں میں اضافہ، ضروری اشیاء کی بڑھتی قیمتوں، ایف ڈی آئی، انشورنس میں اضافہ، کالے دھن کا پتہ چلانے میں ناکامی جیسے مسائل پر توجہ دی جائے گی۔ ملک میں نام نہاد ’لوجہاد‘ کے ذریعہ فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کے خلاف بھی احتجاج کیا جائے گا۔ بی جے پی کی نفرت انگیز مہم اور دیگر فرقہ پرستانہ پروپگنڈہ مہم کے خلاف بھی آواز اُٹھائی جائے گی۔ خواتین کے خلاف مظالم، دلتوں اور پسماندہ و پچھڑے طبقات کے مسائل کو بھی ایک ہفتہ طویل احتجاج میں اُٹھایا جائے گا۔ 26 نومبر کو سی پی آئی ایم کی جانب سے حکومت کے خلاف ایک روزہ دھرنا منظم کیا جائے گا۔ حکومت نے حال ہی میں دیہی روزگار ضامن اسکیم کو برخاست کردیا ہے۔ اس کے خلاف بھی احتجاج کیا جائے گا۔ حکومت نے ازخود اعتراف کیا ہے کہ وہ اس اسکیم کے تحت کام کرنے والی ریاستوں میں تریپورہ سرفہرست ہے۔ اب اسکیم کو ختم کردینا ناانصافی ہے۔
حکومت نے فنڈس کی کمی کے باعث کام کے دنوں کو پہلے ہی گھٹا دیا تھا، اب اسے برخاست کردیا گیا ہے۔