وزیر اعظم اور امیت شاہ کی دو رُکنی ’فوج‘ کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور ، رکا پارلیمنٹ سنہا کا بیباکانہ بیان
تھرواننتاپورم ۔ 24 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی ایم پی شتروگھن سنہا نے آج وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی سربراہ امیت شاہ پر نکتہ چینی میں کہاکہ وہ شخصی طورپر ’’ون میان شو اور دو افراد کی آرمی ‘‘کیخلاف ہیں ۔ شتروگھن سنہا جو مرکز کی بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت پر چبھتے ہوئے لفظی حملوں کے لئے مشہور ہیں ، اُنھوں نے کہا کہ جمہوریت میں پارٹی افراد سے کہیں زیادہ بڑھکر ہوتی ہے جبکہ قوم پارٹی سے کہیں بڑھی ہوتی ہے ۔ بی جے پی لیڈر نے کہاکہ جو کچھ میں نے کہا ہے اور کیا ہے وہ قومی مفاد میں رہا اور بلاشبہ میرا شخصی مفاد نہیں رہا ۔ ابھی تک میں نے کبھی کوئی سلوک نہیں چاہا اور نہ ہی ذاتی طورپر کسی چیز کی خواہش کی ۔ وہ تھرواننتاپورم ایم پی اور کانگریس لیڈر ششی تھرور کی ایک کتاب کی رسم اجراء کے موقع پر مخاطب تھے ۔ تھرور نے وزیراعظم نریندر مودی اور اُن کے دور کے ہندوستان کے بارے میں کتاب تحریر کی ہے ۔ اداکار سے سیاستداں بننے والے شتروگھن سنہا جو اکثر مودی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی مختلف پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں ، انھوں نے کہاکہ ملک کے لوگوں کو جابس کی ضرورت ہے اور اُنھیں وعدوں اور لفاظی کی بجائے بہتر سہولیات چاہئے ۔ اُنھوں نے کہاکہ میں صرف 15 لاکھ روپئے کی بات نہیں کررہا ہوں ، میں شخصی طورپر اُن (مودی ) کے خلاف نہیں ہوں ۔ لیکن میں شخصی طورپر تنہا شخص کی اجارہ داری اور دو آدمیوں کی فوج کے خلاف ہوں ۔ وہ ملک چلارہے ہیں ۔ یہ کس قسم کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ انھوں نے مزید کہاکہ بعض لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ ایکٹر ہونے کے ناطے وہ کیوں نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور دیگر مسائل پر اظہارخیال کررہے ہیں ۔ شتروگھن سنہا نے جواب دیا کہ اگر کوئی وکیل اقتصادی مسائل پر بات کرسکتا ہے جبکہ اُسے کوئی متعلقہ تجربہ اور علم نہ ہو ، اور اگر کوئی ٹی وی ایکٹریس ایچ آر ڈی منسٹر بن سکتی ہے اور اگر کوئی چائے والا جو وہ کبھی نہیں رہا میڈیا پروپگنڈے کے بل بوتے پر اعلیٰ ترین مقام پر پہونچ سکتا ہے تو میں تبصرہ کیوں نہیں کرسکتا ؟