نیویارک ، 20 مئی ( سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں نئی حکومت سے توقعات جب کہ وہ گزشتہ سال برسراقتدار آئی، ’’شاید غیرحقیقت پسندانہ ‘‘ رہیں لیکن اس نے سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار بنانے کے اقدامات کئے ہیں اور سرمایہ کاروں کی فکرمندی کے معاملے میں ’’حساس‘‘ ذہن رکھتی ہے ، آر بی آئی گورنر رگھو رام راجن نے یہ بات کہی ۔ وہ کل اکنامک کلب آف نیویارک میں مخاطب تھے ۔ انھوں نے اپنے خطاب کے بعد مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت بہت ساری توقعات کے ساتھ تشکیل پائی اور میرے خیال میں توقعات کی نوعیت شاید غیرحقیقت پسندانہ رہیں جو کسی بھی حکومت کے لئے روبہ عمل لانا شاید ممکن نہیں ۔
انھوں نے کہاکہ لوگوں کے ذہنوں میں وزیراعظم نریندر مودی کا امیج کچھ ایسا ہی ہے جیسے رونالڈ ریگن کے بارے میں لوگ سوچتے تھے ، جنھوں نے مخالف منڈی قوتوں کو ختم کیا اور اب بھی لوگ شاید اُسی طرح کے ماحول کی توقعات رکھتے ہیں ۔ تاہم راجن نے کہا کہ حکومت نے سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول بنانے کے اقدامات ضرور کئے ہیں ، جو میرے خیال میں اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ حکومت سرمایہ کاروں کی تشویش دور کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے اور معاشی مسائل کی یکسوئی کا جائزہ لے رہی ہے ۔ راجن کے ریمارکس اس پس منظر میں دیکھے جارہے ہیں کہ مودی زیرقیادت حکومت اقتدار کا ایک سال اسی ماہ مکمل کررہی ہے ،
اُسے رائے دہندوں سے قابل لحاظ اکثریت کی تائید حاصل ہوئی جو نوکریاں چاہتے ہیں ، معاشی ترقی کے متمنی ہیں اور بڑھتی قیمتوں اور بڑھتے کرپشن سے راحت بھی چاہتے ہیں ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر نے کہا کہ تجارتی ماحول کا بڑا حصہ ٹیکسوں پر منحصر ہوتا ہے اور حکومت نے کہا ہے کہ وہ دوبارہ استقدامی ٹیکس کاری نظام لاگو نہیں کرے گی ۔ راجن نے کہاکہ تاہم جیسے ہی ٹیکس اتھاریٹی عوام پر کوئی محصول عائد کرتی ہے اس کا نیم قانونی اثر پیدا ہوجاتا ہے جس کے اثرات منڈی پر ظاہر ہوتے ہیں حتیٰ کہ عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے ماحول میں حکومت مداخلت نہیں کرسکتی ۔