مودی حکومت ، فرقہ وارانہ نفرت روکنے میں ناکام : امریکی کمیشن

متاثرین کو انصاف دلانے سے بھی قاصر ۔ ہندوستان میں مذہبی آزادی کو خطرہ ، مسلمانوں کو ختم کرنا سنگھ پریوار کا خفیہ ایجنڈہ

واشنگٹن ۔28 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان میں فرقہ پرستی پر مبنی نفرت کے بڑھتے واقعات کو روکنے میں مودی حکومت ناکام رہی ہے ۔ فرقہ وارانہ تشدد کا شکار مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرنے میں بھی یہ حکومت بری طرح ناکام ہے ۔ہندوستان میں مذہبی آزادی کو خطرہ لاحق ہونے سے متعلق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی تازہ رپورٹ میں ہندوستان کو متاثرہ ممالک میں شمار کیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ افغانستان ، آذربائجان ، بحرین، کیوبا ، مصر ، انڈونیشیاء ، عراق ، قازقستان ، لاؤس، ملائیشیا اور ترکی شامل ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مذہبی آزادی کی صورتحال بتدریج ابتر ہوتی جارہی ہے۔ زعفرانی طاقتیں تشدد ، غنڈہ گردی اور ہرسانی کے ذریعہ بالادستی حاصل کررہی ہیں۔ غیرہندوؤں اور ہندو دلتوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ امریکی وفاقی حکومت کے تقرر کردہ کمیشن نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ختم کرنا سنگھ پریوار کے خفیہ ایجنڈہ ہے ۔ راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) سنگھ پریواراور وشواہندوپریشد میں ہندوقوم پرست تنظیموں کی جانب سے چلائی جارہی نفرت پر مبنی پرتشدد مہم کے باعث گزشتہ ایک دہے سے مذہبی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کی زندگیاں ابتر ی کا شکار ہورہی ہیں ان تنظیموں کی نفرت انگیز مہم کا شکار طبقات میں مسلمان ، عیسائی ، سکھ ، بدھسٹ اور جین ، مہاویر کے علاوہ دلت ہندو بھی بری طرح پریشان ہیں۔ تشدد کے ذریعہ ہندوستان کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ مسلمانوں کو ان کے روزگار سے محروم کیا جارہا ہے۔ گاؤ تحفظ کے نام پر ہجوم کی جانب سے صرف 2017 ء میں 10 مسلمانوں کو ہلاک کردیا گیا ۔

غیرہندوؤں کو زبردستی ہندو مذہب قبول کرنے کیلئے زورزبردستی کی گئی ۔ ہندوستان میں جب سے سنگھ پریوار نے اقتدار تک رسائی حاصل کی ، ہرسال 500 فسادات ہوتے ہیں ان میں مردہ گائے پر فسادات برپا ہونے کے واقعات اور مسلمانوں کو ہلاک کرنے جیسے پرتشدد ہنگامے بھی شامل ہیں۔ یہ رپورٹ اس لیے اہم ہے کیونکہ یو ایس سی آئی آر ایف ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کا قیام 1998 ء میں بین الاقوامی مذاہب کی آزادی کے ایکٹ کے تحت عمل میں آیا تھا۔ اس تنظیم کا کام امریکی حکومت کو مشورہ دینا ہے۔ادارے کی 2018 ء کی رپورٹ میں انڈیا میں مذہبی آزادی کے تعلق سے نریندر مودی حکومت کے رویے پر کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا کثیر مذہبی، کثیر الثقافتی کردار خطرے میں ہے کیونکہ وہاں ایک مذہب کی بنیاد پر جارحانہ طریقے سے قومی شناخت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس رپورٹ میں ہندوستان کی دس ریاستوں اتر پردیش، آندھراپردیش، اڑیسہ، بہار، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، مہاراشٹرا، گجرات اور کرناٹک کا ذکر کیا گیا ہے جہاں مذہبی آزادی کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ انڈیا کی باقی ریاستوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں مذہبی اقلیتیں زد پر نہیں ہیں۔یو ایس سی آئی آر ایف نے رواں سال 12 ممالک کو دوسرے درجے میں رکھا ہے جنھیں ’’کنٹریز آف پرٹیکولر کنسرن‘‘ یا سی پی سی کہا گیا ہے۔ یہ ایسے ممالک ہیں جہاں مذہبی آزادی کے تعلق سے حالات تشویش ناک ہیں۔ہندوستان کے حوالے سے مخصوص پانچ صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ہندوستان کے وزیراعظم تشدد کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی پارٹی کے لوگ انتہا پسند ہندو تنظیموں سے وابستہ ہیں اور ان میں سے بہت سے افراد مذہبی اقلیتوں کے تعلق سے ناروا زبان کا استعمال کرتے ہیں‘‘۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت ہندکے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہورہا ہے لیکن مودی حکوت نے اسے روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا ہے۔اس رپورٹ میں فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کے متاثرین کو انصاف نہ ملنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’مودی انتظامیہ نے ماضی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا ہے۔ ان میں سے کئی پر تشدد فسادات ان (مودی) کی پارٹی کے لوگوں کی اشتعال انگیز تقاریر کے سبب ہوئے‘‘۔