نئی دہلی 6 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام )تیل کی قیمتوں میں کمی اور موافق عالمی معاشی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ماہرین معاشیات سے ملاقات کی تاکہ جاریہ ماہ کے اواخر میں پیش کئے جانے والے مجوزہ بجٹ پر ان کی تجاویز حاصل کی جاسکیں۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کو واپس ترغیب دی جاسکے ۔ نو تشکیل شدہ نیتی آیوگ کے اجلاس میں نریندر مودی نے ماہرین معاشیات سے معیشت کی صورتحال پر ان کے خیالات معلوم کئے ۔ ان سے پوچھا کہ مالیہ کس طرح مجتمع کیا جاسکتا ہے ۔ اخراجات کو کس انداز میں بہتر بنایا جاسکتا ہے اور ہندوستان کو کس طرح سے ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے ۔ ایک سرکاری اعلامیہ میں نریندر مودی کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ ہندوستان کو تیزی سے ترقی کرنی چاہئے ۔
اسے موجودہ عالمی ماحول سے فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ ملک کے عوام کی خواہشات کو پورا کیا جاسکے ۔ بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ کے نتیجہ میں امکان ہے کہ ہندوستان کو اپنے بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر کو خاطر خواہ حد تک محفوظ رکھنے میں مدد مل سکے ۔ ساتھ ہی چونکہ چین اور یوروزون میں معاشی انحطاط اور سست روی کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں ہندوستان نہ صرف ایک مارکٹ کے طور پر بلکہ سرمایہ کاری کے مقام کے طور پر بھی دوسروں کو راغب کرسکتا ہے ۔ بحیثیت وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ نیتی آیوگ کے ساتھ پہلا اجلاس تھا ۔ یہ آیوگ سابقہ سوویت یونین دور کے منصوبہ بندی کمیشن کو ختم کرتے ہوئے تشکیل دیا گیا تھا ۔ اس اجلاس کے بعد اتوار کو وزیر اعظم گورننگ کونسل کا اجلاس طلب کرینگے جس میں ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کے چیف منسٹرس شرکت کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ کے قیام کا ایک مقصد یہ ہے کہ ایسا ادارہ جاتی میکانزم تیار کیا جائے جہاں حکومت کے باہر کے افراد ملک کی پالیسی سازی میں اپنا رول ادا کرسکیں۔
میڈیا کو اجلاس کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ یہ اجلاس کچھ بہت ماہرین معاشیات کے ساتھ منعقد ہوا تاکہ ملک کی معیشت کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے درکار اقدامات کا جائزہ لیا جاسکے ۔ سرمایہ کاری اور ترقی کو بہتر بنانے اقدامات کئے جائیں اور خاص طور پر مرکزی بجٹ کے تعلق سے ان سے تجاویز حاصل کی جاسکیں۔ مسٹر جیٹلی نے کہا کہ نیتی آیوگ ایک تھنک ٹینک ہے اور آج کے اجلاس کو اسی طرز میں منعقد کیا گیا تھا ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مودی نے تعاون پر مبنی وفاقیت کی ضرورت پر زور دیا ہے اور انہوں نے ریاستوں کے مابین ترقی کیلئے صحتمندانہ مسابقت کی بھی وکالت کی ۔ ماہرین معاشیات نے آج کے اجلاس میں حکومت پر زور دیا کہ وہ اعلی شرح ترقی ‘ قابل عمل ٹیکس نظام ‘ اقتصادی افادیت اور تیز رفتار انفرا اسٹرکچر ترقی پر توجہ دے ۔ اجلاس میں وجئے کیلکر ‘ نتن دیسائی ‘ بمل جالان ‘ راجیو لال ‘ آر ویدیاناتھن ‘ سوبیر گوکارن ‘ پارتا سارتھی شوم ‘ پی بالا کرشنن ‘ راجیو کمار ‘ اشوک گلاٹی ‘ مکیش بوٹانی ‘ اور جی این باجپائی نے شرکت کی اور وزیر اعظم و وزیر فینانس کو معاشی صورتحال کے تعلق سے اپنے خیالات اور تجاویز سے واقف کروایا ۔