واشنگٹن 26 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دو تہائی امریکی عوام کا کہنا ہے کہ موجودہ امریکی کانگریس اب تک کی سب سے بدترین کانگریس ہے جبکہ تین تہائی عوام کا کہنا ہے کہ اس کانگریس نے اب تک بہتر قانون سازی کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے ۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکین پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے کئی اہم قانون سازوں کے تعلق سے بھی امریکہ کے عوام نے منفی خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ 52 فیصد عوام کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کی جو پالیسیاں ہیں وہ ملک کو غلط راہ میں لے جائیں گی جبکہ 54 فیصد کا کہنا ہے کہ ریپبلکینس کی پالیسیاں ملک کو تباہی کی سمت لے جائیں گی ۔ 54 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ صدر بارک اوباما کی جو پالیسیاں ہیں وہ بھی ملک کو تباہی کی سمت لے جا رہی ہیں۔ اوباما ڈیموکریٹ ہیں۔ امریکہ کی 113 ویں کانگریس نے اپنی تعطیلات سے قبل ایک بجٹ معاہدہ طئے کرلیا تھا تاہم اس کے بعد سے اب تک 60 سے بھی کم بلز کو قانون کی شکل دی گئی ہے ۔ امریکہ میں آئندہ سال وسط مدتی انتخابات کا بھی امکان ہے اور اس وقت بھی وہاں سیاسی تعطل ہی برقرار رہ سکتا ہے ۔ موجودہ کانگریس ایسی صورت میں گذشتہ چار دہوں میں سب سے کم کام کرنے والی کانگریس بن سکتی ہے ۔ سی این این نے یہ بات واضح کی ہے ۔ جن افراد سے سوالات کئے گئے تھے ان میں 68 فیصد کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی کانگریس ان کی زندگی کی سب سے بدترین کانگریس ہے ۔ صرف 28 فیصد جواب دہندگان نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا ہے ۔ سی این این کے ڈائرکٹر کیٹنگ ہولینڈ نے کہا کہ کانگریس کے تعلق سے منفی خیال تمام علاقوں اور گروپس میں رہنے والے عوام مرد ‘ خواتین ‘ امیر ‘ غریب ‘ نوجوان اور ضعیف سبھی میں پائی جاتی ہے ۔