موبائل پر زیادہ وقت گذاری صحت کے لیے خطرناک

بچوں کو دماغی امراض ممکن ، دماغی بخار کے ماہرین کا انتباہ
حیدرآباد۔11مارچ(سیاست نیوز) موبائیل پر زیادہ وقت گذارنا صحت کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور بچوں سنبھالنے سے بچنے کیلئے انہیں موبائیل پر مصروف رکھنا ان کی دماغی حالت کو کمزور کرنے کے علاوہ ان میں مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے موبائیل کے استعمال میں تخفیف کو یقینی بناتے ہوئے ذہنی و دماغی امراض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق جو بچے موبائیل کا استعمال زیادہ کرتے ہیں یا الکٹرانک اشیاء سے کھیلتے ہیں ان بچوں کو رات میں نیند نہیں آتی اور نیند نہ ہونے کے سبب وہ بے چین رہتے ہیں اور دن میں کافی دیر تک سوتے رہنے کے سبب ان کے دماغ متاثر ہونے لگتے ہیں۔ دماغی امراض کے ماہرین کے علاوہ ماہرین امراض چشم کا کہناہے کہ بچوں میں موبائیل گیمس اور موبائیل پر تفریحی پروگرامس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں اور ان میں سب سے اہم ان کی نیند کا غائب ہوجانا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ دماغ کے متحرک ہونے کے سبب بچوں کو رات کے وقت جلد نیند نہیں آتی اور دماغ کو سکون میسر نہ ہونے کے سبب وہ تناؤ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ ماہرین اطفال کا کہناہے کہ 12سال سے کم عمر کے بچوں کو موبائیل دینا ان کو دماغی امراض میں مبتلاء کرنے کے مترادف ہے اسی لئے بچوں کو موبائیل پر گیمس وغیرہ سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ملک کے شہری علاقوں میں تیزی سے فروغ پا رہے اس رجحان کو روکنے کیلئے متعدد ماہرین اطفال اور دماغی امراض کے ماہرین کی جانب سے کئی تحقیقی مقالہ پیش کئے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود آئے دن بچوں کی بینائی میں کمزوری کے علاوہ کند ذہنی اور یادداشت کی کمزوری کی شکایات موصول ہورہی ہیں اور ان کی بنیادی وجہ بچوں کے ذہنوں پر موبائیل کے سبب پڑنے والے غیر ضروری اضافی وجہ کو قرار دیا جانے لگا ہے ۔ ماہرین کا کہناہے کہ موبائیل کا استعمال ضرورت کی حد تک بہتر ہے جبکہ شہر ی علاقوں میں بچوں کو مصروف کرنے کیلئے انہیں موبائیل گیمس یا تفریحی کارٹونس کا عادی بنایا جا رہا ہے جو ان کی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے ۔ ماہرین اطفال کا کہناہے کہ بچوں کی نیند صحیح نہ ہونے کے سبب وہ تناؤ کا شکار رہنے لگتے ہیں اور ان میں موجود تناؤ ان کی صلاحیتوں کو متاثر کرنے لگتا ہے جس کے سبب ان کے مزاج میں چڑچڑاہٹ پیدا ہونے لگتی ہے ۔ بچوں کو موبائیل سے ہونے والے نقصانات اور ان کی صحت پر اثر کے کئی ویڈیوز اورمتاثرین کے والدین کے پیامات بھی سوشل میڈیا میں گشت کر رہے ہیں اس کے باوجود بھی اس رجحان میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہو رہی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔