انٹرمیڈیٹ بورڈ امتحانات میں بے قاعدگیاں، خاطیوں کو برطرف کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد /23 اپریل ( سیاست نیوز ) ریاستی وزراء کے رہائشی مقام پر آج صبح اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نے منسٹرز کواٹرز میں داخلہ کی کوششیں کی ۔ طلبہ تنظیم اے آئی ایس ایف جو انٹر بورڈ امتحانات میں بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ آج منسٹر کوارٹرز کی دفتر کا رخ کیا ۔ اس موقع پر تعینات بھاری پولیس کی جمعیت نے طلبہ تنظیم کے قائدین و کارکنوں پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا اور گوشہ محل منتقل کردیا ۔ طلباء تنظیم کے اس گھیراؤ کو سینکڑوں طلبہ کی مدد حاصل تھی ۔ طلبہ تنظیم نے ریاستی وزیر تعلیم اور انٹر بورڈ کے سکریٹری کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ریاستی صدر آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن مسٹر اشوک اسٹالین نے کہا کہ بورڈ کے عہدیداروں نے شخصی فائدے کی خاطر طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں کے سبب 17 طالب علموں نے اپنی جان گنوادی ہے ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان بے قاعدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے طلبہ اور تنظیموں کے خلاف پولیس کو استعمال کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بنگارو تلنگانہ کے نام پر طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جبکہ حصول تلنگانہ میں اہم رول اور قربانیاں صرف طلبہ برادری کی جانب سے دی گئیں تھے ۔ تاہم حکومت نے ان کی قربانیوں کو فراموش کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 15 سالوں سے خدمات انجام دے رہے سنٹر فار گورنینس کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے گلوبرین ادارے کو خدمات حوالے کردی گئیں ۔ جو کے ٹی آر کے قریبی ساتھی کا ادارہ ہے اور اس معاہدہ کو اور وجوہات کو بھی منظر عام پر لانا ہوگا اور یہ حکومت کی دیانتداری پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔