کیونکہ ..پانی زندگی بھی ہے اورموت بھی… مرض بھی ہے اورعلاج بھی ،مگرکیسے..؟جاننا چاہتے ہیں تو اسے ضرورپڑھئے
حیدرآباد 11اپریل (سیاست ڈاٹ کام)یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پانی زندگی کی وہ بنیادی ضرورت ہے جسکے بغیر زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں ۔اورجیسے جیسے موسم گرما کی شدت میں اضافہ ہوتاجارہا ہے پانی کی طلب خاص کرپینے کے پانی کی طلب میں بتدریج اضافہ درج کیا جارہاہے۔بس اسٹاپ،ریلوے اسٹیشن،ہوٹلس اوردیگر عوامی مقامات پرپانی کے پیکٹس یا باٹل کی فروخت میں بھی زبردست اضافہ ہوتاجارہا ہے،لیکن ایسے پانی کے پکیٹس یا باٹل کے استعما ل سے پہلے یہ اطمینان ضرور کرلیںکہ جس پیکٹ یا باٹل کو خرید کر ہم اپنی پیاس کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ ہماری صحت کیلئے کس حد تک مفید یا مـضرہے۔آئے ہم پانی کے استعمال کو سائنسی او ر اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانی جسم کا دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ ایک عام انسان کے جسم میں 35 سے 50 لیٹر تک پانی ہوتا ہے۔ صرف دماغ کو ہی لے لیجئے اس کا 85 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ انفیکشن سے لڑنے والے محافظ خلیے خون میں سفر کرتے ہیں۔ خون بذات خود 83 فیصد پانی ہے۔ جسم کے ہر خلیے میں موجود پانی سے جسم ( ہر ذی روح اور غیر ذی روح ) کے تمام نظام چلتے ہیں۔ اگر جسم میں ڈی ہائیڈریشن ( پانی کی قلت ) ہو جائے تواس سے درج ذیل نقصانات ہوسکتے ہیں۔ چکر ،سر میں درد اور بھاری پن تھکن اور کمزوری ،نظر میں کمی و دھندلاہٹ ، منہ کی خشکی اور بھوک کی کمی، قوت سماعت میں کمی، نبض کی رفتار میں اضافہ،سانس کا پھولنا ، چال و رفتار میں لڑکھڑاہٹ ، پیشاب کی بار بار حاجت، اور. ذیابیطس وغیرہ۔اگرہمیں کم ازکم پینے کیلئے صاف پانی میسر ہوجائے تواسکے کئی ایک فائدے ہیںجیسے…صاف پانی کے استعمال سے اسہال، معدے اور آنتوں کی خرابی سمیت دیگر کئی جراثیمی بیماریوں سے 50 فیصد تک بچاؤ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ صاف پانی انسانی ذہنی و جسمانی نشوونما میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ بچوں کو دودھ اور پھلوں کے رس کے بجائے صاف پانی زیادہ مقدار میں پلانا چاہیے۔ کیونکہ اس سے جسم میں موجود اضافی نمک خارج ہونے میں مدد ملتی ہے۔ برطانیہ میں فوڈ اینڈ موڈ پراجیکٹ نے عمومی صحت اور ذہنی کیفیت پر خوراک کے اثرات کے حوالے سے تجربات کیے جس سے ثابت ہوا کہ ایسے 80 فیصد لوگوں میں، جنہوں نے پانی کے ذریعے اپنی ذہنی اور جذباتی صحت بہتر بنانے کی کوشش کی، تسلی بخش بہتری دیکھنے میں آئی۔دوسری طرف اگر استعمال کیا جانے والا پانی آلودہ اورگندہ ہے تو اس سے صحت کو نا قابل تلافی نقصان ہوتاہے۔گدلا اور آلودہ پانی دنیا میں سب سے بڑا قاتل گردانا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ ایک لاکھ پچیس ہزار افراد گدلا پانی پینے سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ جو بیماریاں گدلے پانی سے ہی پیدا ہوتی ہیںان میں ٹائیفائڈ بخار، آنتوں کا بخار، ہیضہ، انتڑیوں کی سوزش، بدہضمی، گیس، معدے کا السر، اپھارہ، سہال اور جوڑوں کا درد جیسے خطرناک امراض شامل ہیں۔اسی طرح دل کی بیماریاں اور ہائی بلڈ پریشرمیں پانی کا اہم ترین رول ہوتاہے،ڈاکٹروںکے مطابق،جسم میں پانی کی کمی سے خون گاڑھا ہونا شروع ہوتا ہے۔ جس سے اس کے بہاؤ میں رکاوٹ آنے لگتی ہے۔ اور پورے جسم تک خون پہنچانے کیلئے دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کی صورت میں جسم میں پانی کی کمی ہونے سے خون کی نالیاں تنگ ہونا شروع ہوتی ہیں۔ اس سے بھی دل کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ ’’ امریکی ریاست کولمبیا کی یونیورسٹی آف ساؤتھ کورولین سے وابستہ ڈاکٹر مارک ڈیوس کا کہنا ہے۔ کہ ’’ ہماری بیشترتکالیف کا تعلق ناکافی غذا کے بجائے ناکافی پانی پینے سے ہے۔ ‘‘ کیلیفورنیا کی لومالنڈا یونیورسٹی کے شعبہ تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر جیکولین نے کہا ہے کہ حسب ضرورت پانی نہ پینا دل کیلئے اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا کہ تمباکو نوشی۔ جو افراد پانی کی جگہ مشروبات، چائے، کافی استعمال کرتے ہیں ان میں بھی دل کے دورہ پڑنے کے خطرات دو گنا ہوتے ہیں۔ صاف پانی کا استعمال صحت کیلئے مفید ہے لیکن کیا پانی کے ذریعہ کسی ایسے خطرناک امراض کاعلاج بھی کیا جاسکتاہے جسکے علاج میں لاکھوںروپے خرچ ہوجاتے ہیں..؟؟جی ہاں ! صرف پانی سے ایسے 22امراض کا علاج کیا جاسکتاہے جس کاشمارمہلک امراض میں ہوتاہے۔ملاحظہ کیجئے کل دوسری اورآخری قسط۔